دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج دوسرے روز بھی جاری
نئی دہلی: بھارتی دارالحکومت دہلی میں پولیس کارروائی کے باوجود کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے حامیوں کا احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا، جہاں بڑی تعداد میں مظاہرین ایک بار پھر سڑکوں پر نکل آئے۔
رپورٹس کے مطابق نوجوانوں کی قیادت میں جاری اس تحریک کے شرکاء تعلیمی اصلاحات اور بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
پیر کے روز مظاہرین نے پابندی کے باوجود پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، جس کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا، جبکہ احتجاجی کیمپ اور عارضی اسٹیج بھی ہٹا دیا گیا۔
پولیس کے مطابق جھڑپوں میں متعدد اہلکار زخمی ہوئے اور کئی مظاہرین کو حراست میں لیا گیا، جبکہ مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ کارروائی میں درجنوں افراد زخمی ہوئے۔
کاکروچ جنتا پارٹی ایک طنزیہ عوامی تحریک ہے، جو بھارتی چیف جسٹس کے ایک بیان کے بعد سامنے آئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ تحریک ایک بڑے عوامی احتجاج کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس میں نوجوانوں، سماجی کارکنوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی شرکت دیکھی جا رہی ہے۔
مظاہرین گزشتہ ایک ماہ سے جنتر منتر پر دھرنا دیے ہوئے ہیں، جبکہ سماجی کارکن سونم وانگچک بھی مطالبات کے حق میں بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ادھر بھارتی حکومت نے مظاہرین سے احتجاج ختم کرنے اور معمولات زندگی بحال کرنے کی اپیل کی ہے، تاہم مظاہرین نے اپنی تحریک جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
PNP
Comments are closed.