by Rao Imran Suleman
Rao Nama

آزاد کشمیر میں عوامی احتجاج: اسباب، اثرات اور حل

0

تحریر: عبدالواجد خان

 

آزاد کشمیر میں گزشتہ دو سال سے جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت میں مہنگائی اور عوامی حقوق کے نام پر جاری تحریک بھرپور عوامی پذیرائی کے باعث عروج حاصل کررہی ہے اور دن بدن طاقتور ہوتی جارہی ہے۔تحریک کی عوامی مقبولیت کی کئی وجوہات اور اثرات ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

 

تحریک کا آغاز دوسال پہلے مہنگائی میں ہوشربا اضافے کے باعث ہوا جس نے عام آدمی کو شدید متاثر کیا۔ مہنگائی کی یہ لہر پاکستان میں شدید معاشی بحران کے باعث پیدا ہوئی جس نے پورے ملک کو لپیٹ میں لیا تھا۔

 

تحریک کے پہلے مرحلے پر احتجاج کے نتیجے میں حکومت آزاد کشمیر نے وفاقی حکومت کے تعاون سے عوام کو آٹا اور بجلی کی قیمتوں میں ریلیف دیا جو تاحال جاری ہے۔ پورے ملک کی نسبت آزاد کشمیر کے لوگوں کو آٹا اور بجلی کم قیمت پر فراہم کیا جا رہا ہے۔اس کے باوجود عوامی ایکشن کمیٹی مزید مطالبات کے ساتھ عوام کو لے کر احتجاج کے لئے باہر نکل آئی ہے۔
تحریک کی عوامی سطح پر بھرپور حمایت کی ایک بڑی وجہ آزاد کشمیر میں گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری محرومیاں ہیں جن کو حکومتیں دور کرنے میں ناکام رہی ہیں۔دیگر محرکات میں آزاد کشمیر میں بیڈ گورننس، کرپشن، میرٹ کی پامالی ،اقربا پروری اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم سمیت دیگر اسباب شامل ہیں ۔ جن کے باعث عام آدمی کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ تقریبآ 80فیصد سے زائد بجٹ سروسز سیکٹر میں خرچ کرنے کے باوجود تعلیم، صحت،مواصلات کی سہولیات انتہائی ناقص ہیں اور عوام کا معیار زندگی پست ہے۔

 

آزادکشمیر میں معیاری انفراسٹرکچر اور صنعتوں کے عدم فروغ کے باعث بے روزگاری میں بھی اضافہ ہورہاہے۔ جس کی وجہ سے عوامی بے چینی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

 

گزشتہ سالوں کے دوران آزادی کشمیر میں جو سیاسی انجنئیرنگ کے نتیجے میں وزیراعظم انوارلحق کی سربراہی میں جو حکومتی سیٹ اپ قائم کیا گیا ہے،اس سے آزاد کشمیر میں ایک نیا بحران پیدا ہواہے۔موجودہ سیٹ اپ کی نااہلی نے نہ صرف ریاست کو بے توقیر کیا ہے بلکہ آزاد کشمیر اور پاکستان کے درمیان دوریاں بھی پیدا ہو رہی ہیں۔آزادکشمیر کی تمام مسلمہ سیاسی قیادت بے اثر اور بے توقیر ہورہی ہے۔ خطے کی تمام سیاسی جماعتوں کو حکومت میں شامل کیا گیا ہے،اپوزیشن نہ ہونے کی وجہ سے ایک سیاسی خلا پیدا ہوا ہے۔

 

جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی نے اس خلا کو پر کیا ہے۔ دوسال کی جدو جہد کے باعث عوامی ایکشن کمیٹی نے عوام میں جڑیں مضبوط کر لیں ہیں۔ عوامی توقعات کو اتنا بڑھا دیا کہ اب عوام عوامی ایکشن کمیٹی کو اپنا نجات دہندہ سمجھنے لگی ہے اور اس کی پشت پر کھڑی ہوگئی ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات کی فہرست کو دیکھا جائے تو اس کو مکمل کرنے کے لئے پورا کرنے کے لئے وسیع پیمانے پر وسائل اور وقت درکار ہے جو ترقی پذیر ممالک میں بھی پورا کرنا آسان نہیں ہیں ہے۔ امریکہ، یورپ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی صحت، تعلیم سمیت دیگر سہولیات مفت نہیں ہیں بلکہ بہت مہنگی ہیں اس کے باوجود کہ وہاں لوگوں کی تنخواہوں کا کثیر حصہ ٹیکسوں کی ادائیگیوں میں جاتا ہے۔

 

عوامی ایکشن کمیٹی کا ایک بڑا مطالبہ آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین کی نشستوں کا خاتمہ ہے، آزاد کشمیر میں مہاجرین کا کوٹہ اور اسمبلی میں مہاجرین کی نشستیں نیک نیتی سے شامل کی گئیں تھیں تاکہ مہاجرین کی قربانیوں کو تسلیم کیا جاسکے اور آزادی کشمیر کی اسمبلی، مقبوضہ کشمیر سمیت پوری ریاست جموں کشمیر کی نمائندگی کرے۔آزادکشمیر کی بیورو کریسی، عدلیہ اور مہاجرین کی نشستوں کے حوالے سے اصلاحات کی جاسکتی ہیں تاکہ گڈ گورننس قائم ہو، شفافیت اور میرٹ کی بالادستی ہو اور عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف ملے۔

 

تحریک کی ابتدا میں عوامی ایجنڈے کے باعث جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی میں آزاد کشمیر کی دیگر سیاسی جماعتوں اور مختلف شعبوں کے کارکنان بھی اس میں جوق در جوق شامل ہوئے تھے، رفتہ رفتہ قوم پرستوں نے اس تحریک کو ہائی جیک کرلیا ہے۔معاملات کا اس حد تک پہچنا آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کھلی ناکامی ہے۔
گزشتہ دو سالوں کے دوران عوامی ایکشن کمیٹی نے سوشل میڈیا کے ذریعے کامیابی کی ساتھ اپنا ایک بیانیہ پروموٹ کیا جبکہ حکومتی سطح پر پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ اور اس کے تمام اضلاع میں موجود نیٹ ورک اس بیانیہ کا کاؤنٹر بیانیہ پیش کرنے میں ناکام رہا اور نہ ہی قومی یا ریاستی میڈیا اور اس پروپیگنڈا کا جواب دینے کے لئے استعمال کیا گیا۔یوں عوام کے سامنے ایک یک طرفہ تصویر چلتی رہی۔
جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی میں ارکان کی اکثریت قوم پرستوں کی ہے یا قوم پرست نظریات کے حامی ارکان کی ہے۔ قوم پرست قیادت میں بعض ارکان محتاط گفتگو کرتے ہوئے عوامی ایجنڈا تک محدود رہتے ہیں۔ جبکہ بعض ارکان نے عوامی اجتماعات میں آزاد کشمیر کی حکومت،اسمبلی، بیوروکریسی، سیاستدانوں کے ساتھ پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف بھی اپنے بغض اور عناد کا کھل کر اظہار کیا ہے،جو نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ قابل گرفت بھی ہے۔ احتجاج یا جلسوں کے دوران صرف شرکاء کو صرف کشمیر کا جھنڈا تھمایا جاتا جس کا مقصد ایک مخصوص ذہنیت اور نظریہ کو پروموٹ کرنا ہے، جس سے ان کی قیادت کی بدنیتی اور تعصب اجاگر ہوتا ہے۔

 

عوامی حقوق کی آڑ میں ان ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کی غیر ذمہ دارانہ تقاریر، شعلہ بیانیوں سے پاکستانیوں اور کشمیریوں کی درمیان اعتماد، محبت اور قربتوں کے رشتے کو گہرا نقصان پہنچایا ہے۔یہ ریاستی یا قومی اداروں بشمول افواج پاکستان کی حمایت کرنے والوں کو سہولت کار کہہ کر طنعہ دیتے ہیں، یہ آزاد کشمیر کے عوام اور افواج پاکستان کے درمیان بھی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔بلکہ ان کے طرز عمل سے آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے اندر بھی دوریاں پیدا ہورہی ہیں۔
ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ آزاد کشمیر کی بقا افواج پاکستان کی قربانیوں ہی کی مرہون منت ہے۔ جس طرح افواج پاکستان نے حال ہی میں میں بھارت کے آزاد کشمیر پر قبضہ کی کوشش کا نہ صرف ناکام بنایا بلکہ ایسا منہ توڑ جواب دیا جس سے پاکستان کا پوری دنیامیں وقار بلند ہوا۔

 

عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی حکومت کی کمیٹی کے گزشتہ ملاقات میں 90 فیصد مطالبات منظور ہونے کے باوجود بعض عناصر کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ڈیڈلاک پیدا ہوا اور بعد میں احتجاج کے دوران قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا جو انتہائی افسوس ناک ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے بعض عناصر کے اس طرح رویہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے مقاصد صرف عوامی مسائل کا حل نہیں ہے بلکہ ان کے اپنے مذموم مقاصد ہیں جو آزادکشمیر میں انتشار چاہتے ہیں اور نفرتیں اور دوریاں پیدا کر کے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

 

قوم پرست اگر خود مختار ریاست کا قیام چاہتے ہیں تو پہلے مقبوضہ کشمیر کو آزاد کر کے خود مختار بنائیں، آزاد کشمیر کو سات دہائیوں سے زائد عرصے سے جانی اور مالی قربانیاں دیکر دفاع فراہم کرنے والے خطہ کو تختہ مشق بناکر کسی کو مذموم مقاصد پورے نہیں کرنے دیں گے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان اور آزاد کشمیر حکمت عملی سے صورتحال سے نمٹنے کے لئے اقدامات کرے، عوام کے جائز مطالبات کو پورا کرے،جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی سے پاکستان دشمن شر پسند عناصر کو نشاندھی کرکے نکالا جائے، کشمیریوں اور پاکستانیوں کے درمیان نفرت اور دوریاں پیدا کرنے والوں، غریب عوام کو اکسا کر ریاستی اداروں کے سامنے لانے اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بننے والوں کا محاسبہ کیا جائے۔

 

آزاد کشمیر کی سیاسی قائدین کو خاموش تماشائی بننے کے بجائے حالات کو قابو میں کرنے کے لئے متحرک کردار اداکرنا چاہئے اس سے قبل کہ بہت دیر ہوجائے۔ آزاد کشمیر حکومت کا موجودہ مبہم ڈھانچہ ختم کرکے عددی اکثریت رکھنے والی جماعت کے حوالے کیا جائے تاکہ اس کو حکومت کو سیاسی ملکیت ملے اور عوام کا اسمبلی اور حکومت پر اعتماد بحال ہو۔
سوشل میڈیا کے اس دور میں حکومتوں کو قومی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لئے زیادہ فعال اور متحرک رہنے کی ضرورت ہے۔تاکہ جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک ہو، منظور پشتین یا ماہرنگ بلوچ کی سربراہی میں تحاریک ہوں یہ عوامی حقوق کے نام پر عوامی پذیرائی حاصل کرکے ریاست پاکستان کے لئے درد سر نہ بنیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.