by Rao Imran Suleman
Rao Nama

کراچی میں مبینہ زیادتی کے بعد اڑھائی سالہ بچی قتل ،تین افراد کا ڈی این اے مل گیا

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)کراچی کے علاقے قائد آباد میں ڈھائی سالہ بچی کے قتل کے مقدمے میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔

تفتیشی حکام کو موصول ہونے والی ڈی این اے رپورٹ میں ایسے شواہد ملے ہیں جن کے بعد تحقیقات کا رخ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق فرانزک رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ مقتولہ کے کپڑوں سے کم از کم تین مختلف افراد کے ڈی این اے کے آثار ملے ہیں۔ کیس کی تفتیش کے دوران ابتدا میں 14 افراد کے نمونے حاصل کیے گئے تھے، جبکہ بعد ازاں مزید مشتبہ افراد کے ڈی این اے سیمپلز بھی جمع کیے گئے۔ابتدائی تحقیقات میں شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ بچی کو مبینہ زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک کی تفتیش کے مطابق واقعے میں مقتولہ کی چچی اور ایک قریبی رشتہ دار کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔تحقیقات کے مطابق مرکزی ملزمہ پر الزام ہے کہ اس نے بچی کو قتل کرنے کے بعد لاش کچھ وقت تک کمرے میں رکھی۔ بعد ازاں لاش کو ٹھکانے لگانے کا موقع نہ ملنے پر اسے گھر کے باہر چھوڑ دیا گیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس میں مزید افراد کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے،

کیونکہ امکان ہے کہ قتل میں ایک سے زائد افراد ملوث ہوں۔ تاہم اب تک کی تفتیش میں ملزمہ کے شوہر کے خلاف کسی قسم کے شواہد سامنے نہیں آئے۔حکام کے مطابق فرانزک رپورٹ اور دیگر شواہد کی روشنی میں تفتیش جاری ہے، جبکہ تمام ممکنہ پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

PNP

Comments are closed.