امریکا سے معاہدہ بھی ہوا تو ایران پر حملہ کریں گے،اسرائیل کی دھمکی
اسرائیل نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے اپنے جوہری پروگرام یا بیلسٹک میزائل پروگرام کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کی تو اسرائیل ایک مرتبہ پھر فوجی کارروائی کرسکتا ہے، چاہے اس دوران ایران اور امریکا کے درمیان کوئی معاہدہ ہی کیوں نہ طے پا جائے۔
اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہن نے اسرائیلی ویب سائٹ ’وائی نیٹ‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے جوہری یا بیلسٹک میزائل پروگرام کی بحالی کی کوشش اسرائیل کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوگی۔
ایلی کوہن کے مطابق اگر ایران نے ان پروگراموں کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی تو اسرائیل کارروائی کرے گا اور اس معاملے میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والا ممکنہ معاہدہ بھی رکاوٹ نہیں بنے گا۔
اسرائیلی وزیر نے دعویٰ کیا کہ اگر اسرائیل نے ایران کے خلاف کارروائی نہ کی ہوتی تو تہران جوہری ہتھیار بنانے کے مزید قریب پہنچ سکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران کا جوہری پروگرام کئی سال پیچھے چلا گیا ہے۔
ایلی کوہن نے مزید کہا کہ اسرائیل اپنی فوجی صلاحیت کا مظاہرہ کرچکا ہے اور اگر ایران نے جوہری یا میزائل پروگرام کی تعمیرِ نو کی کوشش کی تو اسرائیل کے پاس دوبارہ کارروائی کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے جوہری پروگرام اور امریکا کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے معاملے پر خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ اسرائیلی وزیر کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ تل ابیب ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو اپنی قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔
PNP
Comments are closed.