شمالی کوریا کی فوجی کمان میں بڑی تبدیلی،وزیر دفاع برطرف
پیانگ یانگ: شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے فوجی قیادت میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے وزیر دفاع سمیت متعدد اعلیٰ عسکری عہدیداروں کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔
شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے مطابق یہ فیصلے کم جونگ اُن کی زیر صدارت ہونے والے ایک اہم اجلاس میں کیے گئے۔ حکام کے مطابق فوجی قیادت میں تبدیلیاں مسلح افواج کی تنظیم نو اور دفاعی ڈھانچے کو مزید مؤثر بنانے کے منصوبوں کا حصہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نو کوانگ چُل کو وزارت دفاع کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ بعد ازاں انہیں حکمران جماعت کے ڈھانچے میں اسلحہ سازی کی صنعت سے متعلق ایک اہم انتظامی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
دوسری جانب کورین پیپلز آرمی کے جنرل پولیٹیکل ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ کم سونگ گی کو نیا وزیر دفاع مقرر کردیا گیا ہے۔
کم جونگ اُن کے دفاعی مشیر پاک جونگ چُن کو بھی اہم ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ انہیں سینٹرل ملٹری کمیشن کا نائب چیئرمین مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ ورکرز پارٹی آف کوریا کے پولٹ بیورو میں بھی شامل کیا گیا ہے۔
شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے اعلیٰ عسکری عہدیداروں کی برطرفی اور تقرری کی وجوہات کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔
یہ تبدیلیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب پیانگ یانگ اپنی دفاعی اور عسکری صلاحیتوں میں اضافے پر مسلسل توجہ دے رہا ہے۔ شمالی کوریا اور روس کے درمیان دفاعی تعاون میں بھی حالیہ عرصے کے دوران اضافہ ہوا ہے، جبکہ جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
ماہرین کے مطابق فوجی قیادت میں حالیہ ردوبدل شمالی کوریا کی دفاعی پالیسی اور عسکری ترجیحات میں ممکنہ تبدیلیوں کا اشارہ دے سکتا ہے۔ تاہم ان تبدیلیوں کے اصل مقاصد کے بارے میں پیانگ یانگ کی جانب سے فی الحال کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔
PNP
Comments are closed.