by Rao Imran Suleman
Rao Nama

ناظم آباد نجی اسپتال میں زچگی کا معاملہ، طبی ماہرین نے اہم سوالات اٹھا دیے

کراچی(پی این پی)ناظم آباد کے نجی اسپتال میں زچگی کے معاملے پر طبی ماہرین نے اہم سوالات اٹھاتے ہوئے آپریشن اور طبی ریکارڈ کی مزید جانچ کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ خاتون کا مارچ میں نجی اسپتال سے چیک اپ کرایا گیا تھا، جہاں انہیں حمل کے دوران بلند فشار خون کی شکایت کی تشخیص ہوئی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 27 اگست کو ہونے والے سی ٹی جی کے دوران بچے کی دھڑکن 100 سے 150 فی منٹ ریکارڈ کی گئی، جبکہ حمل کے دوران بچے کی معمول کی دل کی دھڑکن 120 سے 160 فی منٹ کے درمیان ہوتی ہے۔پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے معاملے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ 38 ہفتے کا حمل طبی معائنے کے دوران کیسے نظر انداز ہوگیا۔

ان کے مطابق خاتون تین نرسوں، دو ڈاکٹروں، ایک اینستھیٹسٹ اور گائناکالوجسٹ کے معائنے سے گزری، اس کے باوجود معاملے کی حقیقت سامنے نہ آسکی۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر رحم میں بچہ موجود نہیں تھا تو دو مرتبہ سی ٹی جی کے دوران بچے کی دھڑکن کیسے ریکارڈ ہوئی۔طبی ماہرین کے مطابق 38 ہفتے کا حمل پیٹ کے طبی معائنے میں واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے، اس لیے یہ سوال بھی اہم ہے کہ خاتون کا دوبارہ الٹراساؤنڈ کیوں نہیں کیا گیا۔ذرائع کے مطابق خاتون کا پیر کو ایم آر آئی کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے ذریعے آپریشن کے دوران لگنے والے کٹ کی گہرائی کا تعین کیا جائے گا۔ حکام کی جانب سے ناظم آباد کے نجی اسپتال میں پیش آنے والے معاملے کے آپریشن اور طبی ریکارڈ کی مزید جانچ بھی کی جارہی ہے تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں۔

PNP

Comments are closed.