کرائم کی صورتحال میں مجموعی طور پر بہتری، موبائل چھیننے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے: آئی جی سندھ
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ سندھ میں کرائم کی صورتحال میں مجموعی طور پر بہتری آئی ہے۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ موبائل چھیننے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
کراچی میں اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جاوید عالم اوڈھو کا کہنا تھا کہ اجلاس میں امن و امان کی صورتحال اور منشیات کی روک تھام کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔ منشیات سے متعلق پالیسی پر غور کیا گیا۔
جاوید عالم اوڈھو کا کہنا تھا کہ انمول پنکی کیس کے علاوہ 9 ہزار سے زائد ملزمان منشیات کیسز میں گرفتار ہوئے ہیں۔ انمول پنکی کا 23 کیسز میں چالان ہوا۔
انہوں نے کہا کہ منشیات کی روک تھام کیلئے آئی جی بلوچستان سے بھی بات کروں گا۔ بلوچستان میں منشیات کی فیکٹریاں بنی ہوئی ہیں۔ ہم نے قائمہ کمیٹی کو منشیات کے گھناؤنے کاروبار میں ملوث افراد کا بتایا ہے۔ گزشتہ رات ڈرگ سپلائر مارا گیا ہے۔
آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ انسداد منشیات کےلیےتعلیمی اداروں میں آگاہی مہم پربات ہوئی ہے۔
جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ میر رضا کیس میں دھمکیوں میں پولیس افسران کے نام آئے ہیں۔ ابھی تک انکوائری کے سینئر پولیس افسران ذمہ دار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری میر رضا کیس میں انوسٹی گیشن تسلی بخش انداز میں جاری ہے۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ احاطہ عدالت میں پولیس تشدد واقعہ پر قانون کے مطابق کارروائی ہوگی، ڈی آئی جی نے بتایا کورٹ میں پولیس پر تشدد کے ملزمان کے خلاف مقدمہ ہوچکا۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈکیتی و قتل کی وارداتوں میں کمی آئی ہے۔
PNP
Comments are closed.