by Rao Imran Suleman
Rao Nama

امریکی خارجہ پالیسی اسرائیل کے تابع نہیں،قومی مفادات مقدم ہیں:جے ڈی وینس

واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا کو مشرق وسطیٰ میں اپنی خارجہ پالیسی قومی مفادات کے مطابق طے کرنی چاہیے اور اسے اسرائیل کی پالیسی کے تابع نہیں ہونا چاہیے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان اہم شراکت داری موجود ہے، بالخصوص فوجی ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس کے شعبوں میں، تاہم دونوں ممالک کے مفادات ہر معاملے میں یکساں نہیں ہوسکتے۔

امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ واشنگٹن ان معاملات میں اسرائیل کے ساتھ تعاون کرے گا جہاں دونوں ممالک کے مفادات مشترک ہوں، لیکن اختلاف کی صورت میں امریکا اپنی پالیسی خود طے کرے گا۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد امریکی مفادات کا تحفظ ہونا چاہیے۔

انہوں نے اپنے مؤقف کی وضاحت کے لیے امریکا کے نیٹو اتحادیوں سے تعلقات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ نیٹو کے ساتھ مضبوط شراکت داری کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا اپنی یورپی خارجہ پالیسی کو نیٹو کے تابع کردے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح مشرق وسطیٰ میں بھی امریکی خارجہ پالیسی اسرائیل کے تابع نہیں ہونی چاہیے۔

جے ڈی وینس کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں واشنگٹن کی اسرائیل سے متعلق پالیسی پر بحث جاری ہے۔

واضح رہے کہ جے ڈی وینس اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ بعض معاملات میں امریکی اور اسرائیلی مفادات ایک دوسرے سے مختلف ہوسکتے ہیں۔

PNP

Comments are closed.