کراچی (پی این پی) آرچ بشپ آف کینٹربری کے آفس نے حافظ طاہر اشرفی کو دیا گیا ایوارڈ واپس لینے کا اعلان کردیا۔
روزنامہ جنگ کے مطابق طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ ایوارڈ ملتے ہی بھارت، اسرائیل اور پاکستان میں موجود مخصوص لابی ان کے خلاف سرگرم ہوگئی تھی ، انہوں نے بتایا کہ دو تین روز پہلے بتایا کہ توہین ناموس رسالت کے قانون اور توہین مذہب کے قوانین کے حوالے سے میرا موقف بہت سخت ہے ۔ میں نے کہا، ہم اپنا موقف تو نہیں بدل سکتے۔
طاہر اشرفی کے ترجمان کے مطابق ایسے بیانات کا جائزہ لیتے وقت ان کی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف طویل عرصہ پر خدمات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔حافظ طاہر اشرفی کو جمعہ کے روزنائن الیون کی 35 ویں برسی پر ڈیم سارہ ملی نے ایوارڈ پیش کیا تھا،نیشنل سیکولر سوسائٹی نے حافظ طاہر اشرفی کو ایوارڈ دینے کے فیصلے کو انتہائی مضحکہ خیز قرار دیا تھا،سوسائٹی کے مطابق یہ تقریب اس دہشت گرد حملے کی برسی کے دن منعقد ہوئی جس میں تین ہزار افراد ہلاک ہوئے۔
علامہ طاہر اشرفی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امن ، بین المذاہب، بین المسالک ہم آہنگی کی کوششوں پرخود آرچ بشپ کینٹربری نے ان سے دو ماہ پہلے رابطہ کیا تھا کہ آپ کو لمبتھ ایوارڈ کے لیے منتخب، نامزد کیا گیا ہے۔پھر 11 ستمبر کو یہ ایوارڈ انہیں دیا گیا، جس کے فوراً بعد ایک لابی پہلے تو اس بات پر متحرک ہوئی کہ میری اہلیہ اور میری بیٹی وہ حجاب میں کیوں وہاں تھیں۔
PNP
Comments are closed.