by Rao Imran Suleman
Rao Nama

افغانوں کے حامی طلبہ خیر سگالی کیلئے کسی افغان درسگاہ میں تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کریں: خواجہ آصف

فوٹو: فائل

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانوں کے حامی طلبہ خیرسگالی کےلیے کسی افغان درسگاہ میں تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طلبہ کے حق میں سرگرم طلبہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ 5 دہائیوں تک افغانوں کو پناہ دی، اپنے محدود وسائل میں حصہ دار بنایا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ نیٹو افواج کے انخلا کے بعد افغانستان کےلیے نیک خواہشات کا اظہار کیا، امید تھی ہماری سرحد محفوظ ہوگی، دونوں ہمسائے امن سے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری مساجد، اسکولوں، فوج پر حملے کرنے والے دہشت گردوں میں 70 سے 80 فیصد افغان ہوتے ہیں۔ افغان ہمارے ازلی دشمن بھارت کے ساتھ یکجہتی دکھا رہے ہیں۔ 

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ میرے اور فوجی و سول قیادت کے افغانوں سے براہِ راست اور بالواسطہ رابطے مسلسل جاری ہیں۔ مسلسل رابطوں کے باوجود افغانوں کی نفرت اور دشمنی میں کمی نہیں آئی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستانی طلبہ کی افغان طلبہ سے یکجہتی محبت سے زیادہ ان کے سیاسی رجحانات کی عکاس ہے۔ دہائیوں کی میزبانی اور وسائل میں شراکت بھی ان کے ذہنی رجحانات تبدیل نہ کرسکی۔

خواجہ آصف نے کہا کہ افغانوں کے حامی طلبہ خیرسگالی کےلیے کسی افغان درسگاہ میں تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ ان پاکستانی طلبہ کا طرزِعمل افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والوں کے خون کی توہین ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک سیاسی جماعت کی محبت میں اتنا آگے نہ جائیں کہ پاکستانی خون آپ کو سستا لگنے لگے۔



PNP

Comments are closed.