by Rao Imran Suleman
Rao Nama

عالمی قرض 3 لاکھ 65 ہزار ارب ڈالرز ہو گیا

کراچی(پی این پی)2026ء کی پہلی ششماہی تک دنیا کا قرض 3 لاکھ 65 ہزار ارب ڈالرز ہو گیا۔

روزنامہ جنگ کے مطابق انسٹیٹوٹ آف انٹرنیشنل فنانس (آئی آئی ایف) نے کہا ہے کہ 2026ء کے پہلے 6 مہینوں میں دنیا کا قرض 10 ہزار ارب ڈالرز بڑھا ہے، 2025ء کے پہلے 6 مہینوں میں عالمی قرض 21 ہزار ارب ڈالرز بڑھا تھا۔

عالمی قرض مانیٹر کا کہنا ہے کہ بڑھتی شرحِ سود، بلند قرض فنانسنگ، بڑھتی توانائی کی قیمتیں اور ایران تنازع اس کا سبب ہے، قرضوں کا بڑھنا اپنی 5 سالہ اوسط سے زائد ہے۔

آئی آئی ایف کے مطابق 6 مہینوں میں ابھرتی معیشتوں کا قرض 6 ہزار 500 ارب بڑھا ہے، ابھرتی معیشتوں میں چین کا قرض سب سے زیادہ بڑھا ہے۔عالمی قرض مانیٹر نے کہا ہے کہ امریکا، فرانس، برطانیہ اور جاپان کو مستقل مالی خسارے اور بلند سود کی ادائیگیوں کے مسائل ہیں، ایڈوانس معیشتوں کی سود کی ادائیگی، اے آئی، دفاع اور توانائی کے اخراجات خرچ سے زائد رہے۔

انسٹیٹوٹ آف انٹرنیشنل فنانس کا کہنا ہے کہ بڑی ترقی یافتہ معیشتوں کے لیے سود کی لاگت 18 سال کی بلند ترین سطح پر ہے، مہنگائی کے سبب قرضوں کا جی ڈی پی کا تناسب مستحکم نظر آتا ہے، لیکن حقیقتاً مالی خطرات بڑھ رہے ہیں۔ 



PNP

Comments are closed.