by Rao Imran Suleman
Rao Nama

آئی ایم ایف نے پاکستان سے ایک اور بڑا مطالبہ کر دیا

اسلام آباد (پی این پی) پاکستان کے لیے آئی ایم ایف قرض پروگرام کی پانچویں قسط سے قبل مذاکرات میں توانائی کے شعبے سے متعلق نئی شرائط سامنے آگئیں۔

عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا عمل مزید تیز کیا جائے اور گردشی قرضے کے مقررہ اہداف پورے کیے جائیں۔اے آر وائی نیوز کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان موجودہ قرض پروگرام کی تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی پانچویں قسط کے حصول کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ بات چیت کے دوران عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے توانائی کے شعبے کی کارکردگی اور اصلاحات پر خصوصی توجہ دی گئی۔ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے مذاکرات کے دوران توانائی کے شعبے میں کیے جانے والے اقدامات اور اصلاحاتی عمل سے متعلق آئی ایم ایف کو بریفنگ دی۔ حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال کے اثرات سے توانائی کا شعبہ بھی متاثر ہوا ہے۔مذاکرات میں گردشی قرضے کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ زیرو ان فلو اہداف کے تحت گردشی قرضے کو تقریباً 1600 ارب روپے تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر ہے، جسے پورا کرنے کے لیے اقدامات پر آئی ایم ایف کو آگاہ کیا گیا۔پاکستانی وفد نے غیر ملکی قرضوں اور ان کی ادائیگیوں کی صورتحال سے متعلق بھی عالمی مالیاتی فنڈ کو تفصیلات فراہم کیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال پاکستان کو تقریباً 15 ارب ڈالر کا غیر ملکی قرض حاصل ہونے کی توقع ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کے لیے سعودی عرب کی جانب سے بروقت تعاون کا بھی ذکر کیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ جولائی کے دوران پاکستان نے مجموعی طور پر 2.2 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کیں، جن میں 1.4 ارب ڈالر چینی کمرشل قرض کی واپسی جبکہ 80 کروڑ ڈالر دیگر واجبات کی مد میں ادا کیے گئے۔حکام کے مطابق موجودہ مالی سال کے دوران پاکستان کو مجموعی طور پر تقریباً 21.5 ارب ڈالر کی قرضوں سے متعلق ادائیگیاں کرنا ہوں گی۔ ان ادائیگیوں میں تقریباً 3.5 ارب ڈالر سود کی رقم بھی شامل ہے۔مذاکرات کے دوران اسٹیٹ بینک کی جانب سے زرمبادلہ کی مارکیٹ سے کی جانے والی خریداری سے متعلق بھی آئی ایم ایف کو آگاہ کیا گیا۔

پاکستانی حکام کے مطابق مرکزی بینک نے گزشتہ تین برسوں کے دوران مارکیٹ سے تقریباً 28 ارب ڈالر خریدے، جبکہ گزشتہ مالی سال میں مقامی مارکیٹ سے تقریباً 9 ارب ڈالر کی خریداری کی گئی۔پاکستانی وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ رواں مالی سال کے آئندہ 11 ماہ میں بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ نسبتاً کم ہونے کی توقع ہے۔ حکام نے بتایا کہ موجودہ مالی سال کی قرض ادائیگیاں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 5 ارب ڈالر کم ہیں۔ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کے دوران مختلف شعبوں سے متعلق سیشنز جاری رہیں گے، جبکہ آج آٹو پالیسی کے معاملے پر خصوصی اجلاس بھی متوقع ہے۔

PNP

Comments are closed.