امریکی بمبار طیارے برطانوی ایئربیس سے کیوں ہٹائے گئے؟ ٹرمپ نے وجہ بتادی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ برطانیہ کے رائل ایئر فورس بیس فیئر فورڈ سے امریکی بمبار طیاروں کی واپسی کسی معمول کی نقل و حرکت کا نتیجہ نہیں بلکہ وہاں موجود ممکنہ خطرات کے باعث کی گئی۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس روانگی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی حکام کو خطرے کا علم تھا، اسی لیے بمبار طیاروں کو برطانوی اڈے پر رکھنے کے بجائے امریکا واپس منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
امریکی محکمہ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ فیئر فورڈ میں تعینات تمام امریکی بمبار طیارے واپس امریکا میں اپنے متعلقہ اڈوں پر منتقل کردیئے گئے ہیں۔ ان طیاروں میں بی ون سمیت دیگر بھاری بمبار طیارے بھی شامل تھے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ طیارے اتفاقاً وہاں سے نہیں نکالے گئے بلکہ کچھ خطرات موجود تھے، اس لیے دشمن کو کسی ممکنہ کارروائی کا موقع دینے کے بجائے طیاروں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ حکام ان افراد کے بارے میں بھی جانتے ہیں جن کی جانب سے مبینہ طور پر خطرہ پیدا کیا گیا۔
تاہم ٹرمپ نے خطرے کی نوعیت یا اس میں مبینہ طور پر ملوث افراد کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے طیاروں کی منتقلی کو معمول کی فوجی نقل و حرکت اور اثاثوں کی ازسرنو تعیناتی قرار دیتے ہوئے اسے براہ راست حالیہ واقعے سے جوڑنے سے گریز کیا۔
یہ پیش رفت 27 ستمبر کو فیئر فورڈ ایئربیس کے قریب مشتبہ سرگرمی کے بعد سامنے آئی۔ برطانوی پولیس نے اس واقعے کے سلسلے میں متعدد افراد کو گرفتار کیا تھا، تاہم تفتیش کے دوران گاڑیوں سے دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا، البتہ پٹرول کی موجودگی کی تصدیق کی گئی۔ تحقیقات جاری ہیں اور ممکنہ بیرونی مداخلت سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
برطانوی حکومت نے واضح کیا ہے کہ فیئر فورڈ ایئربیس محفوظ ہے، جبکہ امریکی طیاروں کی واپسی کے باوجود امریکی بمبار طیارے عالمی سطح پر کارروائی کے لیے تیار رہیں گے۔
PNP
Comments are closed.