مشرقی یروشلم قونصل خانہ بند ہوا تو 27 اسرائیلی سفارتکار نکال دیں گے، برطانیہ
برطانیہ نے اسرائیل کو مبینہ طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر مشرقی یروشلم میں قائم برطانوی قونصل خانے کو بند کرکے وہاں موجود برطانوی سفارتکاروں کا سفارتی درجہ ختم کیا گیا تو لندن 27 اسرائیلی سفارتکاروں کو ان کے اہل خانہ سمیت برطانیہ سے نکال سکتا ہے۔ یہ بات اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس میں سامنے آئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل میں برطانوی سفیر سائمن والٹرز نے یہ پیغام اسرائیلی حکام تک پہنچایا۔ مبینہ طور پر برطانیہ نے کہا ہے کہ قونصل خانے میں تعینات ہر متاثر ہونے والے سفارتکار کے بدلے ایک اسرائیلی سفارتکار کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا جائے گا۔ تاہم برطانوی حکومت نے اس رپورٹ پر باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
اسرائیل نے 8 اکتوبر تک مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ یہ فیصلہ برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے متعلق پابندیوں کے اعلان کے بعد سامنے آیا تھا۔
مشرقی یروشلم میں قائم برطانوی قونصل خانہ تل ابیب میں موجود برطانوی سفارتخانے سے الگ کام کرتا ہے اور یروشلم، مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینیوں سے متعلق برطانیہ کے سیاسی اور قونصلر امور دیکھتا ہے۔
برطانیہ کے قومی سلامتی کے مشیر جوناتھن پاول نے گزشتہ ہفتے اسرائیل کا غیر اعلانیہ دورہ بھی کیا تھا تاکہ قونصل خانے کی بندش رکوانے کے لیے اسرائیلی حکام سے بات چیت کی جاسکے، تاہم ذرائع کے مطابق کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوسکا اور مذاکرات جاری ہیں۔
برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ سفارتی کشیدگی کی بنیادی وجہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے متعلق برطانوی پابندیاں ہیں۔ لندن کا مؤقف ہے کہ بستیوں کی توسیع اور آبادکاروں کے تشدد سے خطے میں امن اور دو ریاستی حل کے امکانات متاثر ہوتے ہیں، جبکہ اسرائیل نے برطانوی اقدامات کو مسترد کیا ہے۔
PNP
Comments are closed.