اسلام آباد:چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے پہلے مرحلے کی کامیاب تکمیل پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط تزویراتی تعلقات کی نئی مثال بن گئی ہے۔ فیز ون کے دوران 43 منصوبوں کی تکمیل، جن پر 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی، نہ صرف پاکستان کے بنیادی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کا باعث بنی بلکہ خطے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔سی پیک کے پہلے مرحلے میں توانائی کے شعبے پر خصوصی توجہ دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مختلف توانائی منصوبوں کے ذریعے 8,800 میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل کی گئی، جس سے ملک میں گزشتہ کئی برسوں سے جاری توانائی بحران میں واضح کمی آئی۔ روڈ نیٹ ورک، پلوں اور ٹرانسپورٹ کے دیگر منصوبوں کی تکمیل سے تجارتی نقل و حمل میں بہتری آئی اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے نئی راہیں کھلیں۔حکام کے مطابق یہ تمام کامیابیاں دونوں ممالک کی مشترکہ کوشش، ہزاروں انجینئرز اور کارکنوں کی دن رات محنت اور مستحکم دوطرفہ تعاون کا نتیجہ ہے۔سی پیک کا دوسرا مرحلہ پاکستان کی معاشی اور سماجی ترقی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
اس مرحلے میں خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جن کے ذریعے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ اور لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔زرعی شعبے میں تعاون بھی فیز ٹو کا اہم حصہ ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، مشینری اور چینی ماہرین کی معاونت سے پاکستان کی زرعی پیداوار بڑھانے اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ صنعتوں میں جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور نئی تربیتی اسکیموں کے ذریعے پاکستانی نوجوانوں کے لیے ہنرمندی کے نئے راستے کھلیں گے۔گرین انرجی اور ماحولیاتی تحفظ کے منصوبوں کو بھی فیز ٹو میں مرکزی اہمیت دی جا رہی ہے تاکہ پاکستان کے توانائی نظام کو پائیدار اور ماحول دوست بنایا جا سکے۔ علاوہ ازیں صحت، تعلیم اور بنیادی سہولتوں کے سماجی ترقیاتی منصوبے پسماندہ علاقوں میں زندگی کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد دیں گے۔
سی پیک کے دوسرے مرحلے کا آغاز پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ملک میں معاشی و سماجی ترقی کے نئے دروازے کھولے گا۔ فیز ٹو میں مندرجہ ذیل شعبوں کو ترجیح دی جا رہی ہے:خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) کی ترقی ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، صنعتی ترقی اور روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے۔چینی ماہرین، جدید مشینری اور جدید طریقہ کار کے ذریعے زرعی پیداوار میں اضافہ اور غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔جدید صنعتی ٹیکنالوجی پاکستان کی صنعتی، مینوفیکچرنگ اور آئی ٹی سیکٹر میں انقلاب برپا کرے گی۔
نوجوانوں کے لیے تربیتی و تعلیمی پروگرامزپاکستانی نوجوانوں کو نئے صنعتی اور تکنیکی شعبوں کے لیے تیار کیا جائے گا۔نئے قابلِ تجدید توانائی منصوبوں اور ماحولیاتی اقدامات سے پاکستان کے ماحول کو محفوظ اور پائیدار بنایا جائے گا.صحت، تعلیم اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی سے پسماندہ علاقوں کے عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے گی۔ماہرین کے مطابق سی پیک کا دوسرا مرحلہ نہ صرف پاکستان کی صنعتی بنیاد کو مضبوط کرے گا بلکہ خطے میں تجارتی روابط، برآمدات میں اضافہ اور مجموعی اقتصادی ترقی کے لیے نئے دروازے کھولے گا۔
Trending
- پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبے بھر میں بارشوں اور چند مقامات پر ژالہ باری کا الرٹ جاری کردیا
- وزیراعظم سے کینیڈین ہم منصب کا رابطہ، جنگ بندی کی پاکستانی کوششوں کی پذیرائی
- شادی کی عمر اٹھارہ سال ہونا لازم قرار ،نکاح خواہ کو کم از کم ایک سال قید ،ایک لاکھ جرمانہ ہوگا
- رجب بٹ نئی مشکل میں پھنس گئے، خاتون سے زیادتی کیس میں فرد جرم کی تاریخ مقرر
- 400 کلو چاندی کہاں گئی؟ پاکستان کسٹمز کے 2 اہلکار گرفتار
- رنویر الہ آبادیا کا سمے رائنا کے طنز پر ردعمل وائرل
- سرکاری سکولوں میں 17لاکھ طلبا کے ب فارم نمبر غلط یا غائب ہونے کا انکشاف
- کرینہ کپور کے ایئرپورٹ تنازع نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی
- منطقی طور پر اس وقت امریکا اکیلے پن کا شکار ہے، دفاعی تجزیہ کار
- آشا بھوسلے کی آخری رسومات میں کون سی اہم شخصیات نے شرکت کی؟
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔