by Rao Imran Suleman
Rao Nama

جنوبی ایشیا میں نئی سفارتی صف بندیاں تشکیل پانے لگیں

عالمی امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق جنوبی ایشیا میں جیو پولیٹیکل صورتحال گزشتہ دہائی کے دوران نمایاں تبدیلیوں سے گزری ہے، جس میں پاکستان اور بھارت کی خارجہ پالیسیوں کے اثرات بھی شامل ہیں۔
تجزیاتی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ 2016 کے بعد بھارت نے ایک زیادہ سخت سفارتی مؤقف اختیار کیا، جس کا مقصد خطے میں پاکستان پر عالمی دباؤ بڑھانا تھا۔ تاہم موجودہ صورتحال میں پاکستان مختلف اہم عالمی اور علاقائی طاقتوں کے ساتھ اپنے سفارتی روابط برقرار رکھے ہوئے ہے۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان کے امریکہ، چین، ایران اور سعودی عرب سمیت کئی اہم ممالک کے ساتھ تعلقات موجود ہیں، جبکہ خطے میں بھی اس کے سفارتی رابطوں میں بتدریج بہتری دیکھی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں پاک بھارت کشیدگی کے دوران عالمی سطح پر مختلف بیانیے سامنے آئے، اور جنگ بندی اور سفارتی کوششوں کے حوالے سے بھی مختلف دعوے اور آرا سامنے آئیں۔
تجزیہ کار یہ بھی کہتے ہیں کہ بدلتے ہوئے علاقائی حالات کے باعث خطے میں طاقت کا توازن مسلسل تبدیل ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف ممالک کے درمیان نئے سفارتی اور دفاعی روابط بھی سامنے آ رہے ہیں۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ وہ مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم رکھنے اور اپنے سفارتی دائرہ کار کو وسیع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دوسری جانب بھارت کی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر بین الاقوامی سطح پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں، جن میں بعض حلقے تنقید جبکہ بعض حمایت کرتے ہیں۔
مجموعی طور پر خطے میں سیاسی اور سفارتی حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، اور دونوں ممالک کی حکمت عملیوں کے اثرات عالمی سیاست میں نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

PNP

Comments are closed.