by Rao Imran Suleman
Rao Nama

خانیوال میں مبینہ طور پر غیر فطری جنسی عمل کے نتیجے میں خاتون کی موت، شوہر گرفتار

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)خانیوال میں پنجاب پولیس نے ایک شخص کو حراست میں لے لیا ہے

جن پر الزام ہے کہ انھوں نے غیر فطری طریقے سے اپنی اہلیہ سے جنسی عمل کیا جس کی وجہ سے اس کی جان چلی ہے،پولیس نے ملزم کے خلاف قتل سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے اور اسے آج مقامی عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق کیس کی تفتیش کرنے والی ٹیم کے رکن پولیس اہلکار عثمان خان نے بتایا کہ قتل کے مقدمات میں ملزم کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنا قانونی عمل کا حصہ ہوتا ہے، اسی لیے عدالت سے ریمانڈ کی درخواست کی جائے گی۔پولیس حکام کے مطابق متاثرہ 18 سالہ خاتون کی شادی تقریباً تین ماہ قبل ملزم سے ہوئی تھی۔ تحقیقات کے دوران یہ الزام سامنے آیا کہ شوہر نے اپنی اہلیہ کے ساتھ ایامِ مخصوصہ کے دوران غیر فطری طریقے سے تعلق قائم کیا، جس کے باعث اس کی صحت شدید متاثر ہوئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون نے اس حوالے سے اپنی قریبی خواتین رشتہ داروں سے بھی شکایت کی تھی۔متوفیہ کے بھائی کے مطابق جب ان کی بہن والدین کے گھر آئی تو اس کی جسمانی حالت انتہائی کمزور تھی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ والدہ کے استفسار پر مقتولہ نے اپنی بیماری اور تکلیف کی وجوہات بیان کیں اور بتایا کہ اسے شدید انفیکشن کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے روزمرہ امور میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔خاندان کا مؤقف ہے کہ مقتولہ نے اپنی والدہ کو یہ بھی بتایا تھا کہ اگر وہ اس معاملے کا ذکر کسی سے کرے گی تو اسے اور اس کے بھائی کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ اہل خانہ کے مطابق گفتگو کے دوران ہی اس کی طبیعت بگڑ گئی، جس کے بعد اسے فوری طور پر نشتر اسپتال منتقل کیا گیا۔پولیس کے مطابق اسپتال میں علاج اور آپریشن کے باوجود خاتون جانبر نہ ہو سکی۔

ابتدائی طبی رپورٹ میں موت کی وجہ مبینہ طور پر ان ہی واقعات سے جڑے طبی پیچیدگیوں کو قرار دیا گیا ہے، تاہم حتمی فیصلہ مکمل تحقیقات اور میڈیکل رپورٹس کے بعد ہوگا۔تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ابتدا میں مقدمہ درج کرنے میں تاخیر ہوئی، تاہم وزیراعلیٰ شکایات سیل میں درخواست پہنچنے کے بعد متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو معطل کیا گیا اور بعد ازاں قانونی کارروائی شروع کی گئی۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خانیوال محمد عابد کے مطابق واقعہ 6 مئی کو پیش آیا تھا جبکہ 16 مئی کو درخواست پولیس کو موصول ہوئی۔ بعد ازاں 23 مئی کو مقدمہ درج کیا گیا۔ ان کے مطابق مقدمے کے اندراج کے وقت متاثرہ خاتون زندہ تھیں اور کیس ان ہی کی شکایت پر درج کیا گیا تھا، تاہم اگلے روز ان کا انتقال ہوگیا۔دوسری جانب ملزم کے اہل خانہ نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان پر لگائے گئے دعوے بے بنیاد ہیں اور وہ عدالت میں اپنا دفاع کریں گے۔

PNP

Comments are closed.