نجی تعلیمی ادارے ٹیکس دہندہ، حکومت ایجوکیشن فرینڈلی ماحول فراہم کرے، ڈاکٹرملک ابرار حسین
دہشت گردی وشدت پسندی کے خاتمے کے لیے تعلیم کا فروغ ناگزیر، نجی شعبہ حکومت سے تعاون کو تیار
اسلام آباد (خصوصی رپورٹر)آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر ڈاکٹرملک ابرار حسین نے کہا ہے کہ پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن کے فروغ کے لیے تعلیم کو عام کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومت، تعلیمی اداروں اور معاشرے کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔
گزشتہ روزاسلام آباد میں ایک نجی کالج کی سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹرملک ابرار حسین کا کہنا تھا کہ نجی تعلیمی ادارے نہ صرف ملک میں معیاری تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ ٹیکسوں اور مختلف سرکاری مدات میں بھاری رقوم بھی قومی خزانے میں جمع کروا رہے ہیں۔ اس کے باوجود نجی تعلیمی شعبے کو آئے روز مشکلات اور تالہ بندیوں کا سامنا ہے، جو تعلیمی عمل کو متاثر کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ نجی تعلیمی اداروں کے لیے ایجوکیشن فرینڈلی ماحول فراہم کرے، ان کی حوصلہ افزائی کرے اور بلاجواز رکاوٹوں سے گریز کرے۔ اس وقت ملک میں پونے تین کروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ حکومت کے پاس انہیں معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے مؤثر میکانزم موجود نہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ نجی تعلیمی شعبہ حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کے لیے تیار ہے تاکہ اسکول سے باہر بچوں کو معیاری تعلیم کے دائرے میں لایا جا سکے۔اگر نجی شعبہ تعلیم کو ذمہ داری سونپی جائے تو وہ دہشت گردی، شدت پسندی اور معاشرتی انارکی کے خاتمے میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے، کیونکہ تعلیم ہی ایک پُرامن، مستحکم اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد ہے۔