کراچی کے علاقے قائد آباد میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے شہریوں کو پولیس اور حساس اداروں کے افسران بن کر لوٹنے والے 3 رکنی گروہ کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں گروہ کا سرغنہ ابوبکر جبکہ اس کے ساتھی نصیر احمد اور محمد حسن شامل ہے جو گزشتہ 7 سال سے مختلف نوعیت کے فراڈ میں ملوث تھے۔
ملزمان شہریوں کو فون کالز کے ذریعے خود کو پولیس اور حساس اداروں کا افسر ظاہر کر کے ہراساں کرتے اور ان کے بینک اکاؤنٹس سے رقوم منتقل کروا لیتے تھے، ابتدائی تحقیقات کے مطابق گروہ کروڑوں روپے کا فراڈ کر چکا ہے۔
گرفتار ملزمان آن لائن پروڈکٹس کی فروخت کے نام پر بھی شہریوں سے رقم وصول کرتے رہے جبکہ بڑی مقدار میں اشیاء کا آرڈر دے کر سامان حاصل کرنے اور ادائیگی نہ کرنے میں بھی ملوث پائے گئے۔
حکام نے انکشاف کیا کہ گروہ مختلف موبائل سمز استعمال کر کے شہریوں کو نشانہ بناتا تھا، محمد حسن اور نصیر احمد جو سیلولر کمپنی فرنچائز سے وابستہ ہیں، سرغنہ ابوبکر کو جعلی ناموں پر سمز فراہم کرتے تھے اور غیر قانونی طور پر سمز ایکٹیویٹ کرنے میں بھی ملوث تھے۔
ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات اور دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔
PNP
Comments are closed.