پاکستان کسی کا تابع نہیں، روسی صدر کا بھارتی میڈیا کو دوٹوک جواب
پیوٹن کا بیان: پاکستان آزاد اور خودمختار ریاست، کسی کے زیرِ اثر نہیں
ماسکو (ویب ڈیسک) 5 جون 2026
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایک بھارتی صحافی کے پاکستان سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک بڑا اور خودمختار ملک ہے جو کسی کا تابع نہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی مذاکرات کے ذریعے حل ہو جائے گی اور روس بھی دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کا حامی ہے۔

سینٹ پیٹرزبرگ اکنامک فورم کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر پیوٹن نے کہا کہ روس اور چین کے درمیان فوجی تعاون طویل عرصے سے جاری ہے اور مستقبل میں بھی برقرار رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کسی کے خلاف نہیں بلکہ باہمی مفادات اور مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے کام کر رہے ہیں۔
بھارت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ بھارت اور امریکا کے تعلقات کبھی بھی روس اور بھارت کے روابط میں رکاوٹ نہیں بنے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ روس مستقبل میں بھی بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید فروغ دیتا رہے گا۔
یوکرین جنگ کے بارے میں صدر پیوٹن نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج مسلسل پیش قدمی کر رہی ہیں جبکہ یوکرینی فوج کو افرادی قوت اور اسلحے کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق یوکرین اپنے مزید علاقے کھو رہا ہے اور لوہانسک کے علاقے پر روس کا مکمل کنٹرول قائم ہو چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ روس نے حالیہ عرصے میں یوکرین کے 2,440 مربع کلومیٹر علاقے پر قبضہ حاصل کیا ہے۔
صدر پیوٹن نے کہا کہ روس یوکرین کے ساتھ پرامن مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سمجھوتوں کے حوالے سے دیے گئے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روس مذاکرات کے لیے آمادہ ہے، تاہم یوکرین کو بھی مفاہمت کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ روسی اور یورپی انٹیلی جنس اداروں کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔ توانائی کے شعبے پر بات کرتے ہوئے صدر پیوٹن نے کہا کہ جرمنی کو نورد اسٹریم منصوبے کے ذریعے روسی گیس کی فراہمی کے حوالے سے فیصلہ کرنا ہوگا، جبکہ روس جرمنی کو گیس فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔