سپریم کورٹ آف پاکستان نے قتل کے مجرم کی عمر قید کے خلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے 14 سال قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔
دورانِ سماعت وکیلِ صفائی نے کہا کہ مقدمے کے مطابق تنازع ہوا، مقتول چھت پر تھا جبکہ فائرنگ نیچے سے کی گئی، جائے وقوع کا نقشہ بنانے والے نے نہ چھت دکھائی، نہ سیڑھی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے وکیلِ صفائی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ نقشہ بنانے والا کوئی آرکیٹیکٹ تھوڑی تھا، غریب نے اپنی پوری کوشش کی، آپ اپنی شرافت سے پہلے بھی ہمیں گھما چکے ہیں۔
وکیلِ صفائی نے کہا کہ مقدمے میں جو بیان کیا جا رہا ہے ایسا ہوا ہی نہیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ ایسا سمجھ رکھا ہے کہ چارسدہ میں اسلحہ بنتا ہے، ہر گولی دو نمبر نہیں ہوتی۔
وکیلِ صفائی نے کہا کہ ملزم 10 سال سے اشتہاری تھا، یہ بات ہم مانتے ہیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ مجرم 10 سال گزار چکا ہے، کچھ سال باقی ہیں، نکل آئے گا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں مجرم نے عمر قید کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔
PNP
Comments are closed.