ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکی تجویز کے بارے میں واشنگٹن کو ابھی کوئی جواب نہیں دیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران ابھی تک امریکی تجویز کے بارے میں کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا۔
خیال رہے کہ یکم مئی کو ایرانی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات سے متعلق نئی تجویز جمعرات کو پاکستانی ثالثوں کو بھجوادی گئی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے جمعہ کو ایران کی نئی تجویز وصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی تفصیلات بتانے سے انکار کردیا تھا اور کہا تھا کہ مذاکرات جاری ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ ان کی ابھی ایران کے ساتھ براہ راست بات چیت ہوئی ہے تاہم وہ تہران کی نئی تجویز سے خوش اور مطمئن نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تہران ایسے مطالبات کر رہا ہے جنہیں وہ تسلیم نہیں کر سکتے، انہیں صحیح ڈیل کرنی ہوگی، امید نہیں کہ ہم کسی معاہدے تک پہنچ پائیں گے۔ واشنگٹن اپنی حتمی تجاویز پیش کرچکا ہے، ان کے پاس دوہی آپشنز ہیں یا تو ایران کو مکمل تباہ کردیا جائے یا پھر کوئی معاہدہ ہوجائے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا تھا کہ اگر امریکا اپنے غیرمنصفانہ مطالبات، دھمکی آمیز لہجے اور اشتعال انگیز اقدامات ترک کر دے تو تہران سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کو تیار ہے۔
ادھر امریکی حکام اور وائٹ ہاؤس کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باقاعدہ خاتمے اور ایٹمی مذاکرات کے نئے فریم ورک پر اتفاق کے لیے ایک صفحے کی مفاہمتی یادداشت (MOU) تیار کر لی گئی ہے۔
علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ ایک ہفتے میں طے پا سکتا ہے، ایران آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے جلد معاہدہ نہیں کرتا تو نئے حملے کریں گے۔
PNP
Comments are closed.