
کراچی کے صنعتی علاقوں میں پانی کی کمی کے بحران سے نمٹنے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر شہری حکومت سیوریج ٹریٹمنٹ کے جدید منصوبے پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔
اس سلسلے میں سائٹ ٹی پی 1 میں صوبے کا پہلا ’انڈسٹریل واٹر پارک‘ قائم کر دیا گیا ہے، جہاں سیوریج ٹریٹمنٹ کے جدید پلانٹ نے آزمائشی بنیادوں پر کام شروع کر دیا ہے، 35 ملین گیلن واٹر ٹریٹمنٹ کے پہلے فیز کا افتتاح 30 جون کو متوقع ہے۔
نمائندہ ’جنگ‘ کو دورے کے دوران واٹر ٹریٹمنٹ کے جدید عمل کا مشاہدہ کرایا گیا، کمپنی کے عہدیدار شیخ ہمایوں صغیر نے بریفنگ میں بتایا کہ واٹر ری سائیکلنگ وقت کی اہم ضرورت ہے جو دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں کامیابی سے جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی کے سیوریج کو ری سائیکلنگ یا ٹریٹمنٹ کے بعد مطلوبہ معیار کے مطابق انڈسٹریل ایریا کو فراہم کیا جائے گا۔
ہمایوں صغیر نے بتایا کہ انڈسٹریل ایریاز میں پانی کی مستقل کمی پر صنعت کاروں نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو سے ملاقات کی تھی، اس مسئلے کے حل کیلئے بلاول بھٹو نے وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو ٹاسک دیا جنہوں نے میئر مرتضیٰ وہاب کی نگرانی میں سائٹ ٹی پی ون کو انڈسٹرل واٹر پارک کا درجہ دیا اور فوری طور ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کرایا، انڈسٹریل واٹر پارک میں منصوبے کے تحت 5 ہزار درخت لگائے جا چکے ہیں جبکہ اس سلسلے میں کام جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سائٹ اینڈسٹ ایریا کو یومیہ 35 ملین گیلن پانی کی ضرورت ہے، صنعتوں کو پانی کی فراہمی کے لیے ابتدائی کام مکمل ہے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ توسیع کی جائے گی۔
PNP
Comments are closed.