جنوبی لبنان میں کشیدگی برقرار، اسرائیل کا بڑا فیصلہ نیتن یاہو نے فوج کو کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت دے دی
جنوبی لبنان میں صورتحال کشیدہ
اسرائیل / نیوز ڈیسک | 26 مئی 2026
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ انہوں نے ملکی فوج کو حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے اور عسکری دباؤ میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق ویڈیو بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل اس وقت حزب اللہ کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہے اور گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اسرائیلی فوج نے 600 سے زائد جنگجوؤں کوہلاک کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ پر دباؤ کم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں بلکہ اس کے برعکس فوج کو مزید سخت اور مؤثر کارروائیوں کا حکم دیا گیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ حزب اللہ روایتی حملوں کے ساتھ ساتھ سائبر ٹیکنالوجی سے منسلک جدید ڈرونز بھی استعمال کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اس خطرے سے نمٹنے کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی جا چکی ہے اور جلد اس حوالے سے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
نیتن یاہو نے زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال حزب اللہ کے خلاف زیادہ شدت اور طاقت کے ساتھ جواب دینے کا تقاضا کرتی ہے اور اسرائیل مسلسل فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھے گا۔
دوسری جانب جنوبی لبنان میں جنگ بندی کے باوجود جھڑپوں اور کشیدگی کا سلسلہ جاری ہے۔ رپورٹس کے مطابق اپریل سے اب تک حزب اللہ کے جدید ڈرون حملوں میں 23 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
حالیہ مہینوں میں حزب اللہ کی جانب سے فرسٹ پرسن ویو (FPV) ڈرونز کے استعمال میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے باعث اسرائیلی فوج کو متعدد جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔
اسرائیلی فوج کے مطابق جنوبی لبنان میں جاری جھڑپوں کے دوران حزب اللہ نے تقریباً 5500 راکٹس فوجی اہداف پر جبکہ 2500 راکٹس اسرائیل کے اندر فائر کیے۔ اس کے علاوہ تقریباً 300 ڈرون حملے بھی کیے گئے جن میں سے 25 اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

دوسری جانب لبنان کی وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی حملوں میں اب تک 3 ہزار سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 5 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔