by Rao Imran Suleman
Rao Nama

ایران مجھے قتل کرنا چاہتا ہے، ایسا ہوا تو اسے صفحۂ ہستی سے مٹا دینا، میں برسوں سے ہٹ لسٹ پر ہوں” ٹرمپ

میرے قتل کی قیمت ایران کی تباہی ہوگی

0

واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کے قتل کی کوئی بھی مبینہ سازش کامیاب ہوئی تو ایران کو ایسے تباہ کن نتائج بھگتنا ہوں گے جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھے ہوں گے۔

امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ کافی عرصے سے ایران کی مبینہ "ہٹ لسٹ” پر ہیں اور اس صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی متعلقہ اداروں کو واضح ہدایات دے رکھی ہیں کہ اگر ان کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو ایران پر ایسی شدید بمباری کی جائے گی جس کی مثال ماضی میں نہیں ملے گی۔

ٹرمپ نے کہا، "میں کافی عرصے سے ان کی ہٹ لسٹ پر ہوں، یہی وہ صورتحال ہے جس کا ہم سامنا کر رہے ہیں۔ میں نے ہدایات چھوڑ رکھی ہیں کہ اگر میرے ساتھ کچھ بھی ہوا تو ایران پر اس سطح کی بمباری کی جائے جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔”

صدر ٹرمپ سے حالیہ ان اطلاعات کے بارے میں بھی سوال کیا گیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسرائیل نے امریکی حکام کو ایسی انٹیلی جنس معلومات فراہم کی ہیں جن میں ان کے قتل کی مبینہ ایرانی سازش کا ذکر ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ اسرائیل کوئی نئی معلومات نہیں لایا، کیونکہ ایران برسوں سے انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا، "نہیں، اسرائیل کوئی نئی چیز لے کر نہیں آیا۔ میں کافی عرصے سے ایرانی قتل کی فہرست میں سرفہرست ہوں، زندگی کی حقیقت یہی ہے۔”

دوسری جانب وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے امریکا کو ایسی انٹیلی جنس معلومات فراہم کی ہیں جن میں صدر ٹرمپ کے خلاف مبینہ ایرانی منصوبے کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ معلومات واشنگٹن کے ایران کے حوالے سے مؤقف کو مزید سخت بنانے اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھنے پر زور دے رہے ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ حالیہ دنوں میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے معاشی اثرات کے پیش نظر سفارتی حل کو ترجیح دیتے رہے ہیں۔

ادھر امریکا نے 8 جولائی کی رات ایران پر دوبارہ فضائی حملے شروع کیے اور تہران پر آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدوں کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان حالیہ پیش رفتوں نے مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، جس کے علاقائی اور عالمی سلامتی پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.