مومنہ اقبال کی جانب سے پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں اہم پیشرفت
لاہور سیشن کورٹ نے اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کے مقدمے میں لیگی ایم پی اے ثاقب چڈھر کی عبوری ضمانت منظور کرلی۔
ایڈیشنل سیشن جج عرفان احمد شیخ نے عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی، عدالت نے 24 جون تک ثاقب چڈھر کو گرفتار کرنے سے روک دیا۔
ثاقب چڈھر کی جانب سے ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق پیش ہوئے، این سی سی آئی اے نے لیگی ایم پی اے کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔
قبل ازیں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) لاہور نے خاتون م مومنہ اقبال کی شکایت پر ثاقب چدڑ کے خلاف سائبر ہراسگی، بلیک میلنگ، نازیبا مواد کی تشہیر، غیر قانونی نگرانی اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق شکایت کنندہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم ثاقب چدڑ نے شادی کی پیشکش مسترد ہونے کے بعد طور پر اسے ہراساں کرنا شروع کر دیا۔ شکایت میں الزام عائد کیا گیا کہ ملزم نے دھمکی آمیز پیغامات بھیجے، کردار کشی کی کوشش کی اور مختلف ذرائع سے بلیک میلنگ کا سلسلہ جاری رکھا۔
شکایت کے مطابق خاتون کی مبینہ نازیبا ویڈیوز اور نجی معلومات اس کی رضامندی کے بغیر مختلف افراد تک پہنچائی گئیں، جس سے اس کی ذاتی زندگی اور ساکھ متاثر ہوئی۔ این سی سی آئی اے نے انکوائری کے دوران شکایت کنندہ اور دیگر متعلقہ افراد کے بیانات قلمبند کیے جبکہ ڈیجیٹل شواہد، موبائل فونز اور دیگر آلات فرانزک جانچ کے لیے بھجوا دیے گئے۔
حکام کے مطابق ابتدائی تکنیکی تجزیے میں بعض شواہد سامنے آئے ہیں جن کی بنیاد پر پیکا ایکٹ 2016 (ترمیمی 2025) اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش مکمل طور پر میرٹ، شواہد اور قانون کے مطابق کی جائے گی جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
PNP
Comments are closed.