بلاول کے نانا کی سیاست کو فاشزم سمجھتا ہوں، بے نظیر بھٹو کا احترام کرتا ہوں: خواجہ سعد رفیق
زنگ آلود تیر شیر کا شکار نہیں کر سکتا
اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ وہ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کا احترام کرتے ہیں، تاہم بلاول بھٹو زرداری کے نانا ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست کو فاشزم سمجھتے ہیں۔

آزاد کشمیر انتخابات کے سلسلے میں اسلام آباد میں منعقدہ انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ “زنگ آلود تیر شیر کا شکار نہیں کر سکتا”۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے پہلی مرتبہ پاکستان میں عوامی مینڈیٹ کی نفی کی اور اکثریتی جماعت کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ کوئی لشکر، گروہ یا سازش کشمیریوں اور پاکستان کے درمیان رشتے کو کمزور نہیں کر سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر کئی جنگیں لڑیں جبکہ پاکستان کی مسلح افواج ملکی سرحدوں کے دفاع میں مصروف ہیں۔
خواجہ سعد رفیق نے مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں حافظ احمد رضا قادری اور راجہ صدیق کی کامیابی کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جماعت کے تمام کارکن ایک نظریے اور ایک قیادت کے تحت متحد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتخابات اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ پہلی بار کشمیر اور پاکستان کے تعلق پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کسی بھی حکومت نے مسئلہ کشمیر پر قومی مؤقف سے انحراف نہیں کیا اور پاکستان کا مؤقف تقسیمِ برصغیر کی بنیاد پر قائم ہے۔ ان کے مطابق کروڑوں پاکستانیوں کی حمایت کی وجہ سے بھارت لائن آف کنٹرول سے آگے بڑھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔
لیگی رہنما نے آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار وہاں کی حکومت کی ناقص کارکردگی کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آ کر شفاف اور عوامی فلاح پر مبنی طرزِ حکومت قائم کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ رشوت کے الزامات کا سامنا کرنے والے افراد کو حکومت کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت اور تحریکِ آزادی کشمیر کی حمایت کی ہے۔ ان کے بقول ن لیگ کے دورِ حکومت میں آزاد کشمیر کا بجٹ کئی گنا بڑھایا گیا اور خطے میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبے مکمل کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر تحریکِ آزادی کشمیر کا بیس کیمپ ہے اور اس کی کمزوری پوری تحریک کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معرکۂ حق میں پاکستانی افواج نے بھارت کو مؤثر جواب دیا، جبکہ پاکستان کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے بلوچستان اور کشمیر میں مختلف سازشیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئینی اور قانونی تبدیلیاں صرف پارلیمان اور اسمبلیوں میں ہوتی ہیں، چوکوں اور چوراہوں میں نہیں۔
جلسے سے خطاب کے اختتام پر خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ کشمیر کے عوام کے لیے مختص تمام وسائل انہی کی فلاح و بہبود پر خرچ کیے جائیں گے اور اسمبلی میں ایسے نمائندوں کا انتخاب ضروری ہے جو عوام کے حقوق کا مؤثر انداز میں دفاع کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتخابات مہاجرینِ مقیم پاکستان کے حقِ رائے دہی، نظریۂ پاکستان اور ملک کے استحکام کا انتخاب ہیں، اور وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام کے ووٹ سے “کشمیر بنے گا پاکستان” کا خواب حقیقت بنے گا۔