امریکا اور ایران کے درمیان 100 روز بعد بھی مستقل امن معاہدہ نہ ہو سکا
امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کو 100 دن مکمل ہو چکے ہیں، تاہم متعدد سفارتی کوششوں اور مذاکراتی مراحل کے باوجود دونوں ممالک اب تک کسی مستقل امن معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ اس عرصے کے دوران کئی مواقع پر یہ تاثر پیدا ہوا کہ فریقین سمجھوتے کے قریب ہیں، لیکن بنیادی اختلافات نے ہر بار پیش رفت کو روک دیا۔
یہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیلی اہداف اور خلیجی خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی کا اعلان ہوا جس سے حالات میں وقتی بہتری آئی، لیکن براہِ راست مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچ سکے۔
اپریل میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کو تاریخی اہمیت حاصل رہی، جہاں 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد پہلی مرتبہ دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندے آمنے سامنے بیٹھے۔ مذاکرات میں مختلف سیاسی اور سکیورٹی امور زیرِ بحث آئے، تاہم اختلافات برقرار رہے۔
ذرائع کے مطابق سب سے بڑا تنازع ایران کے جوہری پروگرام پر رہا۔ امریکا ایران سے افزودہ یورینیم کے ذخائر کے حوالے سے سخت شرائط پر عملدرآمد چاہتا ہے، جبکہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو پرامن مقاصد کیلیے قراردیتا ہے اور بعض مطالبات کوانتہائی ناقابلِ قبول سمجھتاہے۔
مذاکرات میں لبنان کی صورتحال بھی ایک اہم موضوع رہی۔ ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا کہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کا خاتمہ کسی بھی وسیع امن منصوبے کے لیے ضروری ہے۔ اگرچہ ایک مرحلے پر جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، تاہم بعد میں بھی مختلف علاقوں میں فوجی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آتی رہیں۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز کے معاملے نے بھی سفارتی کوششوں کو پیچیدہ بنایا۔ ایران نے ایک وقت پر عالمی جہاز رانی کے لیے راستہ کھولنے کا اعلان کیا، لیکن امریکی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کے باعث کشیدگی برقرار رہی۔ اس اہم آبی گزرگاہ کی عالمی توانائی کی ترسیل میں کلیدی حیثیت کے باعث یہ مسئلہ مذاکرات کا مرکزی نکتہ بن گیا۔
جون کے آغاز میں ایسی اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ امریکی اور اسرائیلی قیادت کے درمیان لبنان میں جاری فوجی کارروائیوں پر اختلافات پیدا ہوئے ہیں، جس کے بعد سفارتی حلقوں میں امید پیدا ہوئی کہ تنازع کے حل کی نئی راہیں نکل سکتی ہیں۔ تاہم زمینی صورتحال میں کوئی نمایاں تبدیلی نہ آ سکی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکا اور ایران متعدد بار معاہدے کے قریب پہنچے، لیکن جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں، لبنان کی صورتحال اور آبنائے ہرمز کے معاملات پر اختلافات اب بھی حل طلب ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہی بنیادی نکات مستقل امن معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
PNP
Comments are closed.