بیٹی کی خودکشی پر ماں نے اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا
اوٹاوا (پی این پی )کینیڈا میں ایک 24 سالہ خاتون کی خودکشی کے بعد اس کی والدہ نے امریکی کمپنی اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔
عرب میڈیا کے مطابق ماں کی جانب سے مقدمے میں مقف اختیار کیا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے ذہنی دبائو اور خودکشی کے رجحانات کے باوجود موثر مداخلت نہیں کی۔رپورٹس کے مطابق متاثرہ خاتون مونٹریال میں ویب ڈیولپر کے طور پر کام کرتی تھی اور طویل عرصے تک چیٹ جی پی ٹی سے ذہنی دبا، تنہائی اور خودکشی سے متعلق گفتگو کرتی رہی۔مقدمے کے مطابق اے آئی نظام نے نہ تو خاندان کو خبردار کیا اور نہ ہی فوری مدد کے لیے موثر اقدامات کیے۔مقدمے میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ نئے ماڈل کی اپڈیٹ کے بعد چیٹ بوٹ زیادہ ہمدردانہ اور ہاں میں ہاں ملانے والا رویہ اختیار کرنے لگا ہے جس سے صارف کا انحصار اس چیٹ بوٹ پر بڑھ جاتا، بعض مواقع پر چیٹ بوٹ نے ہیلپ لائن سے رابطے کی تجویز کو کمزور قرار دیا۔
رپورٹس کے مطابق 24 سالہ خاتون نے 2025 میں یکم جولائی کو اپنی زندگی ختم کر لی تھی، مقدمہ امریکی ریاست کیلیفورنیا کی عدالت میں دائر کیا گیا ہے اور اس میں اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین سمیت کمپنی کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔دوسری جانب اوپن اے آئی نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں اور ان کا نظام پہلے کے مقابلے میں اب زیادہ بہتر حفاظتی اقدامات رکھتا ہے، کمپنی کے مطابق تازہ ماڈل میں خطرناک جوابات میں نمایاں کمی آئی ہے اور ذہنی صحت کے ماہرین سے مشاورت بھی کی گئی ہے۔یہ کیس ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مختلف ممالک میں مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس اور ذہنی صحت سے متعلق خدشات پر بحث تیز ہو رہی ہے اور کئی دیگر قانونی مقدمات بھی زیرِ سماعت ہیں۔
PNP
Comments are closed.