by Rao Imran Suleman
Rao Nama

بھارت سے اسرائیل کو دفاعی سامان کی ترسیل جاری رہی،ایمنسٹی انٹرنیشنل کا دعویٰ

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ کے دوران بھارت سے اسرائیل کو اسلحہ، گولہ بارود، فوجی پرزے اور دیگر دفاعی سامان کی ترسیل جاری رہی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ایسے خدشات موجود تھے کہ یہ سامان غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں میں استعمال ہو سکتا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ بھارت گزشتہ چند برسوں میں اسرائیل کے دفاعی شعبے کے ساتھ قریبی تعاون بڑھا چکا ہے اور اسرائیلی دفاعی سپلائی چین کا اہم حصہ بن گیا ہے۔

ایمنسٹی کے تحقیق کاروں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے 7 اکتوبر 2023 کے بعد بھارت سے اسرائیل بھیجی جانے والی ہزاروں تجارتی شپمنٹس کا جائزہ لیا، جن میں مبینہ طور پر دفاعی سامان، فوجی اجزا اور دیگر متعلقہ مواد شامل تھا۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی کمپنیوں کی جانب سے چھوٹے ہتھیاروں کے پرزے، دھماکہ خیز مواد سے متعلق اجزا، ڈرون وارہیڈز، توپ خانے کے گولوں کے حصے اور فوجی گاڑیوں کے پرزے اسرائیلی دفاعی اداروں کو فراہم کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

تنظیم کے مطابق دستیاب تجارتی ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سامان اسرائیلی دفاعی کمپنیوں کو بھیجا گیا، جہاں سے اسے اسرائیلی فوجی نظام کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو فوجی سامان کی برآمدات روک دے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ جنگی حالات میں ہتھیاروں کی فراہمی بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ریاستوں کی ذمہ داریوں سے متصادم ہو سکتی ہے۔

تاہم رپورٹ میں کیے گئے دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ خبر سامنے آنے تک بھارتی حکومت یا اسرائیلی حکام کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا گیا۔

PNP

Comments are closed.