by Rao Imran Suleman
Rao Nama

کراچی: رواں سال کی سب سے بڑی ڈکیتی، کیش وین ڈرائیور اور 2 گارڈز زیرِ حراست

—فائل فوٹو

کراچی میں رواں سال کی سب سے بڑی ڈکیتی میں ملوث کیش وین کا ڈرائیور اور 2 گارڈز کو حراست میں لے لیا گیا۔

ایس ایس پی سینٹرل ڈاکٹر عمران نے بتایا ہے کہ واردات کا ماسٹر مائنڈ چیف کریو واجد نکلا، چیف کریو واجد نے واردات کی منصوبہ بندی کی تھی، اس نے کیش وین سے ڈبل کیبن گاڑی میں خود منتقل کروایا، ڈبل کیبن میں آنے والے چاروں ڈاکو چیف کریو سے رابطے میں تھے، 30 کروڑ روپے کی ڈکیتی کے بعد چیف کریو نے کیش وین کے دروازے باہر سے لاک کر دیے۔

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ شہرِ قائد کے علاقے ایف بی ایریا بلاک 14 میں کیش وین سے 30 کروڑ کی ڈکیتی کی تفتیش جاری ہے۔

واجد اور واردات میں ملوث دیگر ملزمان شہر سے فرار ہو گئے، ابتدائی تفتیش کے مطابق واجد کے ساتھ واردات میں ڈرائیور اور 2 گارڈ بھی ملوث ہیں، جن کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

تفتیشی حکام کے مطابق جمعے کی صبح طارق روڈ پر واقع دفتر سے اسٹاف 20 تھیلوں میں رقم لے کر نکلا تھا، ایس او پی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے واٹر پمپ پر گاڑی روکی گئی، جائے واردات کی جیو فینسگ کروا لی گئی ہے، ملزمان کا کال ڈیٹا ریکارڈ بھی حاصل کر لیا گیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیش وین میں ہونے والی ڈکیتی رواں سال کی سب سے بڑی ڈکیتی ہے، لوٹی گئی رقم تاحال برآمد نہیں کی جا سکی۔



PNP

Comments are closed.