فیفا ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی، ایرانی گول کیپر علی رضا بیرانوند کے سوشل میڈیا پر چرچے

ایرانی گول کیپر علی رضا بیرانوند جنگ کے بعد امریکا کے فٹبال گراؤنڈز میں شاندار کارکردگی دکھانے پر سوشل میڈیا کی خصوصی توجہ کا مرکز بن گئے۔
علی رضا بیرانوند نے فیفا ورلڈ کپ 2026ء میں بیلجیئم کے خلاف میچ میں 90 منٹ تک شاندار انداز میں دفاع کیا اور حریف ٹیم کے تابڑ توڑ حملوں کو ناکام بنایا جس کے بعد ایران اور بیلجیئم کے درمیان میچ ڈرا ہو گیا۔
ایرانی گول کیپر نے کئی مشکلات کے باوجود بھی امریکا کے فٹبال گراؤنڈز میں شاندار کارکردگی دکھا کر سوشل میڈیا صارفین کی خصوصی توجہ حاصل کر لی، یہاں تک کہ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی بھی ان کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے۔
عباس عراقچی نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ فٹ بال کے میدان سے مذاکرات کی میز سے میدان جنگ تک، بطور ایرانی ہم جو بھی قدم اٹھاتے ہیں وہ ایک بڑی جدوجہد کا حصہ ہے جو کہ ہمارے اپنے پیارے لوگوں کی عزت اور وقار کا دفاع ہے۔
علاوہ ازیں علی رضا بیرانوند فٹبال کی دنیا میں 2 گنیز ریکارڈز کے حامل بھی ہیں۔
2016ء میں اُنہوں نے جنوبی کوریا کے خلاف میچ کے دوران ہاتھ سے فٹ بال کو 61.26 میٹر کی ناقابلِ یقین دوری تک پھینک کر پہلا گنیز ریکارڈ اپنے نام کیا تھا۔
علی رضا بیرانوند نے 2019ء میں 1 میچ کے دوران 78.01 میٹر کی طویل ڈراپ کِک لگا کر بھی ورلڈ ریکارڈ قائم کیا تھا۔
اس طرح کے گنیز ریکارڈز بنانے کی قوت ان کے پاس بچپن میں کھیلے جانے والے ایک روایتی کھیل سے آئی، جس میں وہ بھیڑیں چرانے کے دوران دور تک پتھر پھینکتے تھے۔
یہاں اس بات کا ذکر کرنا اہم ہے کہ ایران کے صوبے لرستان سے تعلق رکھنے والے علی رضا بیرانوند نے بچپن میں انتہائی کٹھن وقت دیکھا ہے۔
وہ ایک خانہ بدوش خاندان میں پیدا ہوئے اور جب اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے تہران پہنچے تو ان کے پاس رہنے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی، اس لیے فٹبال کھیلنے کے لیے انہوں نے سڑکوں پر راتیں گزاریں، کار واش، کپڑے کی فیکٹری اور پیزا شاپس پر کام کیا۔
علی رضا بیرانوند کو 2018ء کے ورلڈ کپ میں کرسٹیانو رونالڈو کی پینلٹی کک روکنے کی وجہ سے شہرت ملی تھی۔
PNP
Comments are closed.