by Rao Imran Suleman
Rao Nama

لاہور ہائی کورٹ کا خلع اور حق مہر سے متعلق بڑا فیصلہ

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) لاہور ہائی کورٹ نے خلع اور حق مہر سے متعلق ایک اہم قانونی فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر

رخصتی نہ بھی ہوئی ہو یا میاں بیوی نے ازدواجی زندگی کا آغاز نہ کیا ہو تب بھی خاتون اپنے حق مہر کی قانونی حقدار رہتی ہے۔ جسٹس مرزا وقاص رؤف نے اذکا آفرین کی درخواست پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے حق مہر اور خلع سے متعلق کئی اہم قانونی نکات کی وضاحت کی۔ عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے نو صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگر نکاح نامے میں مہر کی ادائیگی کا وقت واضح طور پر درج نہ کیا گیا ہو تو مہر کو فوری الادا تصور کیا جائے گا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ازدواجی تعلق قائم نہ ہونے یا رخصتی نہ ہونے کی صورت میں بھی خاتون کا حق مہر ختم نہیں ہوتا اور وہ اس کی وصولی کی مجاز رہتی ہے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اگر نکاح نامے میں مہر کی ادائیگی کی مدت یا نوعیت واضح نہ ہو تو قانون کے مطابق پورا حق مہر طلب کیے جانے پر قابلِ ادائیگی ہوگا۔

لاہور ہائی کورٹ نے اس مقدمے میں درج 10 تولہ سونا، ایک کنال زمین اور ایک مکان کو فوری طور پر ادا کیے جانے والا حق مہر قرار دیا۔ عدالت کے مطابق چونکہ نکاح نامے میں اسے موخر کرنے کی کوئی واضح شرط موجود نہیں تھی، اس لیے اسے فوری مہر سمجھا جائے گا۔

عدالت نے خلع کے معاملے میں بھی اہم اصول طے کرتے ہوئے کہا کہ اگر خاتون خلع کے ذریعے شادی ختم کرنا چاہتی ہے تو اسے حق مہر کا 25 فیصد حصہ شوہر کو واپس کرنا ہوگا۔ عدالت کے مطابق خلع کی بنیاد پر نکاح کے خاتمے کے لیے یہ شرط پوری کرنا ضروری ہوگی۔

لاہور ہائی کورٹ نے ماتحت عدالتوں کے فیصلوں میں موجود قانونی خامیوں کو درست کرتے ہوئے اذکا آفرین کی درخواست منظور کر لی اور حق مہر سے متعلق قانونی اصولوں کو مزید واضح کر دیا۔

PNP

Comments are closed.