by Rao Imran Suleman
Rao Nama

یورپ میں 35 سے 40 ڈگری گرمی جان لیوا کیوں ثابت ہو رہی ہے؟

شدید گرمی کی لہر نے اس وقت یورپ کے کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، جہاں درجہ حرارت 35 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے۔ مختلف علاقوں میں گرمی سے متاثر ہو کر متعدد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ سڑکوں، ریلوے ٹریکس اور دیگر بنیادی ڈھانچے پر بھی شدید گرمی کے اثرات سامنے آ رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق صرف درجہ حرارت ہی گرمی کی شدت کا تعین نہیں کرتا بلکہ ہوا میں نمی، گھروں کی ساخت، شہری انفراسٹرکچر اور لوگوں کی جسمانی عادت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

یورپ کے بیشتر علاقوں میں نمی کا تناسب زیادہ ہونے کے باعث پسینہ آسانی سے خشک نہیں ہوتا، جس سے جسم اپنی حرارت مؤثر انداز میں خارج نہیں کر پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ نسبتاً کم درجہ حرارت بھی زیادہ تکلیف دہ محسوس ہوتا ہے اور ہیٹ اسٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اس کے برعکس پاکستان جیسے ممالک میں شدید گرمی معمول کا حصہ ہے، جہاں لوگ اور رہائشی نظام اس موسم کے مطابق ڈھل چکے ہیں۔ گھروں میں ہوا کی بہتر آمدورفت، پنکھوں اور ایئر کنڈیشنرز کا عام استعمال گرمی کے اثرات کو کسی حد تک کم کرتا ہے۔

ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ یورپ میں زیادہ تر عمارتیں سرد موسم کو مدنظر رکھ کر تعمیر کی گئی ہیں، اس لیے وہ گرمی کو اندر محفوظ رکھتی ہیں۔ دوسری جانب گرمیوں کے طویل دن اور رات کے وقت بھی زیادہ درجہ حرارت رہنے سے عمارتیں ٹھنڈی نہیں ہو پاتیں، جس سے شہری علاقوں میں گرمی مزید بڑھ جاتی ہے۔

موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید گرمی کی لہریں زیادہ بار اور زیادہ شدت سے آ رہی ہیں، جس کے باعث شہری منصوبہ بندی، درختوں کی تعداد میں اضافہ اور عوامی آگاہی جیسے اقدامات پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گئے ہیں۔

PNP

Comments are closed.