by Rao Imran Suleman
Rao Nama

ایران میں پٹرول کا بحران شدید، پمپوں پر طویل قطاریں

ایران میں پٹرول کی قلت نے کئی شہروں میں معمولاتِ زندگی اور کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کرنا شروع کردیا ہے، جبکہ جنگی حالات، درآمدی راستوں میں رکاوٹ، مقامی پیداوار اور کھپت کے درمیان بڑھتا فرق اور ایندھن کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

ایران، جو دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے، اس وقت پٹرول کی فراہمی کے بحران سے دوچار ہے۔ ملکی اور بین الاقوامی ذرائع ابالغ کی رپورٹوں کے مطابق جنوبی ساحلی علاقوں سے لے کر دارالحکومت تہران اور دیگر شہروں تک پٹرول پمپوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں دیکھی جا رہی ہیں، بعض مقامات پر شہریوں کو کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑ رہا ہے اور ایندھن کی فراہمی کو محدود کرنے کے لیے مختلف انتظامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

یہ بحران صرف بیرونِ ملک ذرائع ابلاغ کی رپورٹس تک محدود نہیں۔ ایرانی حکام اور مقامی ذرائع کی جانب سے بھی ایندھن کی پیداوار، درآمدات اور کوٹے میں کمی کے مسائل کا اعتراف کیا گیا ہے۔ ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے جولائی میں بتایا تھا کہ جنگ کے دوران پٹرول کا ماہانہ سبسڈی والا کوٹہ کم کیا گیا ہے اور جنگ کے نتیجے میں ملکی پٹرول پیدا کرنے کی صلاحیت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایرانی اخبار شرق نے بھی قلت کی تصدیق کی ہے۔

ایران کے جنوبی صوبہ ہرمزگان میں خاص طور پر صورتحال نمایاں ہوئی ہے۔ بندرعباس سمیت ساحلی علاقوں سے گاڑیوں کی طویل قطاروں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ بلوچستانِ ایران میں بھی پٹرول اور سی این جی کے لیے طویل قطاروں اور ایندھن کی دستیابی میں مشکلات کی رپورٹس موجود ہیں۔

بحران کی وجوہات

ایران میں پٹرول کے بحران کی بنیادی وجہ ایک ہی نہیں بلکہ کئی عوامل کا مجموعہ ہے۔ سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ ملک کی پٹرول پیداوار طویل عرصے سے ملکی کھپت سے کم ہے۔ مختلف ایرانی حکام اور ماہرین کے اعدادوشمار کے مطابق روزانہ کھپت تقریباً 130 سے 135 ملین لیٹر کے درمیان ہے، جبکہ ملکی پیداوار بعض اندازوں کے مطابق 105 سے 121 ملین لیٹر یومیہ ہے۔ یوں روزانہ کئی کروڑ لیٹر کا فرق پیدا ہوتا ہے جسے ماضی میں درآمدات اور دیگر ذرائع سے پورا کیا جاتا رہا ہے۔

جنگ نے اس پہلے سے موجود مسئلے کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ امریکہ نے ریفائنریوں اور ایندھن ذخیرہ کرنے والے مراکز پر بمباری کی تھی۔ جزیرہ خارگ، بندر عباس کے فیول ڈپو، سدرن پارس گیس فیلڈ، اصفہان کے گیس پریش تنصیبات اور دیگر علاقوں میں قائم فیول ڈپلوز کو نشانہ بنایا گیا۔

تیسری بڑی مشکل امریکی بحری ناکہ بندی ہے۔ امریکہ نے ایران کی بندرگاہوں کے گرد بحری پابندیاں دوبارہ سخت کردی ہیں، جس کے نتیجے میں ایران کی سمندری تجارت اور ایندھن کی درآمدات متاثر ہوئی ہیں۔ ایران پہلے اپنے پٹرول کے خسارے کو بیرونِ ملک سے درآمدات اور بعض تجارتی انتظامات کے ذریعے پورا کرتا تھا۔

تاہم بحری پابندیوں کے باعث یہ راستے محدود ہوئے ہیں۔ ایران نے عمان کے خصب اور عراق کے ام قصر جیسے متبادل راستوں سے تجارت جاری رکھنے کی کوشش کی ہے، مگر تجارتی ذرائع کے مطابق یہ راستے معمول کی سمندری درآمدات کے مقابلے میں زیادہ مہنگے اور کم گنجائش والے ہیں۔ روس، عمان، ترکمانستان سمیت وسطی ایشیائی ریاستوں حتیٰ کہ چین سے بھی ایران صاف شدہ پیٹرول منگواتا تھا۔

تیل قیمتیں اور کوٹا

قیمتوں کے معاملے میں بھی صورتحال تیزی سے تبدیل ہوئی ہے۔ ایران میں پٹرول طویل عرصے سے مختلف نرخوں اور کوٹے کے تحت فروخت کیا جاتا ہے۔ حالیہ پالیسی تبدیلیوں کے نتیجے میں نجی گاڑیوں کے لیے سبسڈی والے پٹرول کا کوٹہ کم کیا گیا ہے۔ جولائی میں ایرانی حکومت نے بتایا تھا کہ 3 ہزار تومان فی لیٹر والے پٹرول کا ماہانہ کوٹہ 70 لیٹر سے کم کرکے 50 لیٹر کردیا گیا ہے۔ حکام نے اس وقت یہ بھی کہا تھا کہ غیر کوٹہ پٹرول کی قیمت بڑھانے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

اس سے پہلے ایران میں نجی گاڑیوں کے لیے 1,500 تومان فی لیٹر کے نرخ پر 60 لیٹر کا بنیادی ماہانہ کوٹہ موجود تھا، جبکہ اس کے بعد زیادہ نرخ پر اضافی پٹرول دستیاب ہوتا تھا۔ تاہم 2025 میں نافذ کیے گئے تین سطحی نظام اور 2026 میں ہونے والی نئی تبدیلیوں کے باعث نرخ اور کوٹے میں کئی مرتبہ ردوبدل ہوچکا ہے، اس لیے مختلف رپورٹس میں قیمتوں اور کوٹے کے مختلف اعدادوشمار ملتے ہیں۔

بحران کی شدت کا اندازہ صوبہ کرمان میں ہونے والے ایک تجربے سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ 13 اگست کو حکام نے غیر سبسڈی والے پٹرول کو ریفائنری لاگت کے قریب 87 ہزار 200 تومان فی لیٹر کے نرخ پر فروخت کرنے کا تجربہ کیا، تاہم عوامی ردعمل سامنے آنے کے چند گھنٹوں بعد یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔

گاڑیوں کی طویل قطاریں، کون زیادہ متاثر

ایندھن کی قلت کا سب سے بڑا اثر ان افراد پر پڑ رہا ہے جن کی آمدنی براہِ راست گاڑی اور ایندھن سے وابستہ ہے۔ ٹیکسی ڈرائیور، ٹرک ڈرائیور، ڈیلیوری ورکرز اور چھوٹے کاروباری افراد کو ایک طرف محدود کوٹے کا سامنا ہے تو دوسری جانب پٹرول پمپوں پر طویل انتظار کے باعث کام کے گھنٹے ضائع ہورہے ہیں۔ ساحلی علاقوں میں کشتی رانوں، ماہی گیروں اور بندرگاہ سے وابستہ مزدوروں کے لیے بھی ایندھن کی دستیابی اہم مسئلہ بن گئی ہے۔

مختلف شہروں میں پیٹرول پمپوں پر گاڑیوں کی کئی کلومیٹر طویل قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔

PNP

Comments are closed.