کراچی (پی این پی) گڈز ٹرانسپورٹرز کی ملک گیر ہڑتال کے نتیجے میں معیشت کو اب تک 50 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوگیا اور مطالبات پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔
گڈز ٹرانسپورٹرز کی ملک گیر ہڑتال آٹھویں روز بھی جاری ہے، جس کے باعث ملک بھر میں اشیا کی ترسیل، درآمدی و برآمدی سامان اور کنٹینرز کی نقل و حرکت شدید متاثر ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق گڈز ٹرانسپورٹرز کا کہنا تھا کہ بندرگاہوں سے روزانہ تقریباً 10 ہزار کنٹینرز روانہ ہوتے ہیں، تاہم ہڑتال کے باعث کنٹینرز کی ترسیل رک گئی ہے۔ہڑتال کے باعث ملکی معیشت کو اب تک 50 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے، جبکہ وزارت مواصلات، وزارت خزانہ اور وزارت پٹرولیم کے ساتھ مطالبات پر تاحال کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی۔
گڈز ٹرانسپورٹرز کے رہنما ملک شہزاد اعوان کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مطالبات پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔
دوسری جانب صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام نے حکومت اور ٹرانسپورٹرز سے فوری مذاکرات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ملکی معاشی پہیہ چلانا ہے تو ٹرانسپورٹرز کا پہیہ بھی فوری چلانا ہوگا۔ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث بندرگاہوں پر فریٹ فارورڈنگ تقریباً بند ہوگئی ہے، جس سے بڑی مقدار میں درآمدی سامان پھنس گیا ہے۔ہڑتال کے باعث صنعتوں کا پہیہ سست پڑ گیا ہے اور خام مال کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے، جبکہ بندرگاہوں پر کنٹینرز پھنسنے سے ڈیمریج اور ڈیٹینشن چارجز کا اضافی بوجھ بھی بڑھ رہا ہے۔بندرگاہوں پر رکا ہوا سامان، صنعتوں میں خام مال کی قلت اور برآمدات کو درپیش خطرات ملکی معیشت کے لیے تشویشناک صورتحال ہے۔ ٹرانسپورٹرز کا بحران صرف سڑکوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پوری سپلائی چین پر پڑ رہے ہیں۔
عاطف اکرام نے حکومت اور ٹرانسپورٹرز پر زور دیا کہ مزید تاخیر معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے، ہڑتال سے متاثرہ تاجروں کو مالی ریلیف دیا جائے اور بندرگاہوں پر پھنسے کنٹینرز کے ڈیمریج اور ڈیٹینشن چارجز معاف کیے جائیں۔
PNP
Comments are closed.