تہران میں سابق ایرانی رہنما کی آخری رسومات جاری، ملک بھر میں سوگ اور سخت سیکیورٹی انتظامات
تہران: ایران کے سابق سپریم لیڈر کی آخری رسومات کے سلسلے میں دارالحکومت تہران میں بڑی تعداد میں شہری جمع ہیں، جہاں مختلف سرکاری شخصیات اور عوام کی شرکت جاری ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق تعزیتی تقریبات میں صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی، عسکری قیادت اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ملک بھر میں سات روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سرکاری اطلاعات کے مطابق چھ جولائی کو عام تعطیل اور آٹھ جولائی کو یومِ سوگ منایا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ آخری رسومات میں اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک سےبڑی تعداد میں افرادکی آمد متوقع ہے۔
ایران کی وزارتِ تعلیم نے اعلان کیا ہے کہ مختلف شہروں سے آنے والے زائرین اور سوگواروں کی رہائش کے لیے ملک بھر میں ہزاروں اسکول اور دسیوں ہزار کلاس رومز عارضی طور پر کھول دیے گئے ہیں تاکہ رہائش کی سہولت فراہم کی جا سکے۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی تہران پہنچ کر تعزیتی اجتماع میں شرکت کی، فاتحہ خوانی کی اور ایرانی قیادت سے اظہارِ تعزیت کیا۔
سرکاری شیڈول کے مطابق جسدِ خاکی چند روز تک تہران میں عوامی دیدار کے لیے رکھا جائے گا، جس کے بعد قم، نجف، کربلا اور مشہد میں مرحلہ وار آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔ حکام کے مطابق آخری تدفین مشہد میں امام رضاؑ کے مزار کے احاطے میں کی جائے گی، جہاں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔
PNP
Comments are closed.