ٹرمپ کا بڑا دعویٰ، ایران سے متعلق بیان نے ہلچل مچا دی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں ایرانی عوام کی بڑی تعداد میں شرکت پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں جنازے میں لوگوں کی غیرمعمولی تعداد اور جذباتی مناظر دیکھ کر حیرت ہوئی۔ ان کے مطابق وہ یہ سمجھتے تھے کہ آیت اللہ خامنہ ای کو عوام میں اتنی مقبولیت حاصل نہیں۔
ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں بڑی تعداد میں لوگ ایک مقام پر جمع تھے، تاہم امریکا نے کسی بھی قسم کی کارروائی کا راستہ اختیار نہیں کیا کیونکہ ان کے بقول سفارتی رابطوں کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایرانی قیادت امریکا کے ساتھ ممکنہ معاہدے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے باعث ایک ہفتے کا وقفہ کیا گیا۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے عوامی شرکت اور سوگ کو آیت اللہ علی خامنہ ای کی عوامی مقبولیت، وقار اور قومی یکجہتی کا مظہر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام کا بھرپور ردِعمل ملک کے اندر مضبوط عوامی وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔
پزشکیان نے خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اسرائیل کی کارروائیوں پر عالمی برادری کے ردِعمل کو ناکافی قرار دیا اور کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی نئی قیادت اسلامی دنیا میں اتحاد، تعاون اور مسلم ممالک کے درمیان باہمی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
PNP
Comments are closed.