امریکا کے ایران پر نئے فضائی حملے، ایران کا امریکی اڈوں پر جوابی کارروائی کا دعویٰ
امریکا نے ایران میں نئے فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق کارروائی کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت کو محفوظ بنانا اور ایران کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے۔
امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق حملوں میں ایران کے متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، میزائل اور ڈرون ذخائر، بحری تنصیبات اور فوجی رسد سے متعلق ڈھانچہ شامل ہے۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں حالیہ امریکی حملوں کے ردِعمل میں کی گئیں۔
ایرانی سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض حملوں میں ایران کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں واقع پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، جبکہ مختلف ساحلی شہروں میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ عارضی امن کی صورتحال ختم ہو چکی ہے اور اگر ایران نے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا تو امریکا مزید سخت جواب دے گا۔
ادھر ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا پر معاہدوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ کسی بھی حملے کا جواب دیا جائے گا۔ ایران کی وزارتِ خارجہ نے بھی امریکی کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کے خلاف قرار دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ کشیدگی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جبکہ ایران کی پارلیمنٹ نے ایٹمی پالیسی پر نظرِثانی کا عندیہ بھی دیا ہے۔
دونوں ممالک کے بیانات کے باوجود خطے کی مجموعی صورتحال بدستور کشیدہ ہے، جبکہ آزاد ذرائع سے متعدد دعوؤں کی مکمل تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔
PNP
Comments are closed.