امریکا اور ایران کی بڑھتی کشیدگی: خطہ کس سمت جا رہا ہے؟
واشنگٹن: امریکا نے ایران کے خلاف نئی فضائی کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق کارروائی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر کی گئی، جس میں جنگی طیاروں، ڈرونز اور بحری جہازوں کے ذریعے ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں میزائل اور ڈرون تنصیبات، بحری صلاحیتوں، اسلحہ ذخیرہ کرنے کے مراکز، مواصلاتی نظام اور ساحلی نگرانی کے مراکز شامل تھے۔
سینٹ کام کے مطابق رواں ہفتے کی مختلف کارروائیوں میں مجموعی طور پر 300 سے زائد اہداف پر حملے کیے گئے۔ امریکی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔
امریکی بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے قبرص کے پرچم بردار ایک کنٹینر جہاز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں جہاز کو نقصان پہنچا اور عملے کا ایک رکن لاپتا ہوگیا۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے جنوبی علاقوں عسلویہ، بوشہر اور چاہ بہار کے قریب دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں، تاہم ایرانی حکام نے فوری طور پر ان دھماکوں کی نوعیت یا ممکنہ جانی و مالی نقصان کے بارے میں کوئی سرکاری تفصیل جاری نہیں کی۔
آزاد ذرائع سے امریکی اور ایرانی فریقین کے دعوؤں کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ خطے کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔
PNP
Comments are closed.