by Rao Imran Suleman
Rao Nama

باب المندب صرف سعودی عرب کیلئے بند، دیگر ممالک کیلئے کھلا ہے، حوثی ترجمان

یمن کے حوثی گروپ (انصار اللہ) نے باب المندب آبنائے کو جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر بند کیے جانے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحری ناکہ بندی صرف سعودی عرب کے خلاف ہے، جبکہ دیگر تمام جہازوں کے لیے بین الاقوامی آبی گزرگاہ بدستور کھلی ہے۔

حوثیوں کا یہ بیان سامنے آنے سے پہلے چین کے دو بحری آئل ٹینکر سعودی عرب سے تیل لے کر باب المندب سے گزر گئے۔ دونوں سپر ٹینکر تھے اور حوثیوں نے انہیں کچھ نہیں کہا۔ اسی ہفتے پاکستان نے بھی حوثیوں کو خبردار کیا تھا کہ انہوں نے پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو نشانہ بنایا تو پاکستان سخت کارروائی کرے گا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حوثیوں کے چیف مذاکرات کار اور ترجمان محمد عبدالسلام نے جمعہ کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ باب المندب کی مکمل بندش سے متعلق خبریں درست نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی یمن کے محاصرے اور ایسے منصفانہ حل کو قبول نہ کرنے کے ردعمل میں کی گئی ہے، جو یمنی عوام کی سلامتی، خودمختاری اور آزادی کی ضمانت دے۔

محمد عبدالسلام کے مطابق حوثیوں کی کارروائیوں کا مقصد عالمی بحری تجارت کو متاثر کرنا نہیں بلکہ سعودی عرب پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ یمن کے بحران کے حل کے لیے پیش رفت ممکن ہو سکے۔

واضح رہے کہ انصار اللہ، جسے عام طور پر حوثی تحریک کہا جاتا ہے، غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر اکتوبر 2023 سے بحیرۂ احمر اور خلیجِ عدن میں متعدد بحری جہازوں کو نشانہ بناتی رہی ہے، جبکہ اب اس نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا بھی اعلان کر دیا ہے۔

PNP

Comments are closed.