by Rao Imran Suleman
Rao Nama

سندھ میں خناق نے خطرے کی گھنٹی بجا دی 1 درجن سے زائد بچے جاں بحق

کراچی (پی این پی) کراچی میں ایچ آئی وی کے بعد خناق نے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی، سندھ انفیکشز ڈیزیز ہسپتال نیپا میں خناق سے 13 بچے ہلاک ہوچکے ہیں۔

نجی ٹی وی چینل ’’ایکسپریس نیوز‘‘ کے مطابق کراچی میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز کے بعد اب خناق کے مرض نے بھی خطرے کی گھنٹی بجادی ہے، رواں سال سندھ انفیکشز ڈیزیز ہسپتال میں خناق کے 30 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 13 بچے جان کی بازی ہار گئے۔

 اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جنوری سے جون تک ملک بھر میں خناق کے 308 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سب سے زیادہ کیسز صوبہ سندھ میں سامنے آئے ہیں۔

سندھ میں رواں سال اب تک خناق کے 113 مشتبہ کیسز رپورٹ کیے جاچکے ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا میں 87 اور بلوچستان میں 64 مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں خناق کے 35، اسلام آباد میں 7 جبکہ گلگت بلتستان میں 2 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق خناق ایک متعدی اور پھیلنے والی بیماری ہے، جو ایک بچے سے دوسرے میں منتقل ہوسکتی ہے۔ مرض کی ابتدائی علامات میں گلے کے غدود کی سوجن اور گلے میں سرمئی رنگ کی جھلی بننا شامل ہے۔

اس کے علاوہ مریض کو تیز بخار، گلے میں شدید درد اور سانس لینے میں دشواری کا بھی سامنا ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خناق کی علامات کو معمولی سمجھنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ علامات ظاہر ہونے کی صورت میں مریض کو فوری طور پر طبی مرکز منتقل کیا جانا چاہیے ماہرین کے مطابق خناق کم عمر بچوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، تاہم بروقت حفاظتی ٹیکوں کے ذریعے اس مرض سے مکمل تحفظ ممکن ہے۔ بچوں کو مقررہ عمر اور شیڈول کے مطابق ویکسین لگوانے سے نہ صرف خناق بلکہ کئی دیگر خطرناک اور جان لیوا بیماریوں سے بھی محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔

 قومی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کے تحت بچوں کو مختلف بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ویکسین فراہم کی جاتی ہیں، جن میں تپِ دق (ٹی بی)، پولیو، خناق، تشنج، کالی کھانسی، ہیپاٹائٹس بی، ہیموفیلس انفلوئنزا ٹائپ بی (Hib)، نمونیا، خسرہ، روبیلا اور دیگر بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین شامل ہیں۔

 بچوں کی عمر کے مطابق ویکسین کی مختلف خوراکیں مقررہ شیڈول کے تحت دی جاتی ہیں تاکہ ان کے جسم میں بیماریوں کے خلاف مؤثر مدافعت پیدا ہوسکے۔ ٹیکہ جات بچوں کی صحت کے لیے انتہائی اہم ہیں، کیونکہ شیر خوار اور کم عمر بچوں کا مدافعتی نظام ابھی مکمل طور پر مضبوط نہیں ہوتا اور وہ متعدی بیماریوں کا آسانی سے شکار ہوسکتے ہیں۔

بروقت ویکسی نیشن بچوں کو بیماریوں سے بچانے کے ساتھ ساتھ ان بیماریوں کے پھیلاؤ کو بھی روکنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ حفاظتی ٹیکوں کے ذریعے بچوں کو خناق، پولیو، خسرہ، تشنج، کالی کھانسی اور دیگر سنگین بیماریوں سے محفوظ بنایا جاسکتا ہے، جبکہ ویکسینیشن کے نتیجے میں بیماریوں کی پیچیدگیوں، معذوری اور اموات کے خطرات میں بھی نمایاں کمی آتی ہے۔

اسی لیے والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی ویکسی نیشن کو نظرانداز نہ کریں اور مقررہ وقت پر ویکسین کی تمام ضروری خوراکیں مکمل کروائیں۔

ماہرین صحت نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کا کورس ہر صورت مکمل کروائیں، کیونکہ ویکسینیشن صرف ایک بچے کو بیماری سے محفوظ نہیں رکھتی بلکہ معاشرے میں متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بروقت حفاظتی ٹیکے، بیماری کی فوری تشخیص اور مناسب علاج کے ذریعے خناق سمیت متعدد خطرناک بیماریوں سے بچوں کی قیمتی جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔



PNP

Comments are closed.