جنگ بندی کے دوران ایران6 ارب ڈالرکا تیل فروخت کرنے میں کامیاب
جون کے آخر میں ایرانی آئل ٹینکر ایک کے بعد ایک مشرقی ملائیشیا کے پانیوں میں پہنچنے لگے۔ پہلے ڈیونا، پھر ہیرو-ٹو، سونیا-ون اور اس کے بعد جولائی کے وسط میں سٹریم نامی ٹینکر وہاں پہنچے۔ یہ جہاز اس بحری بیڑے کا حصہ تھے جس نے امریکی پابندیوں میں عارضی نرمی کے دوران ایرانی تیل کو ایشیائی منڈیوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اسی عرصے میں امریکی حکومت نے ایران کی تیل کی تجارت سے متعلق بعض پابندیوں اور قانونی قدغنوں میں بھی وقتی نرمی کی۔ 21 جون کو امریکی محکمۂ خزانہ نے ایک خصوصی اجازت نامہ جاری کیا، جس کے تحت ایرانی خام تیل، پٹرولیم مصنوعات اور پیٹروکیمیکل اشیا کی پیداوار، نقل و حمل اور فروخت کی اجازت دی گئی۔
اگرچہ یہ رعایت 60 روز کے لیے دی گئی تھی، تاہم امریکہ نے سات جولائی کو اسے قبل از وقت منسوخ کر دیا اور صرف جاری لین دین مکمل کرنے کے لیے محدود مہلت دی۔
توانائی کی ترسیلات پر نظر رکھنے والی کمپنی کیپلر کے مطابق، جون کے وسط سے جولائی کے وسط تک تقریباً 73 ملین بیرل ایرانی تیل ’’محاصرے کے دائرے‘‘ سے باہر منتقل کیا گیا، جس کی مالیت کا تخمینہ تقریباً چھ ارب ڈالر ہے۔
اسی طرح وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، اس مدت کے دوران ایران کا تیل لے جانے والے 20 سے زائد آئل ٹینکر ایشیا روانہ ہوئے، جن کے ذریعے مجموعی طور پر تقریباً 70 ملین بیرل تیل اس علاقے سے باہر منتقل کیا گیا۔
ایرانی تیل کی برآمدات میں یہ تیزی ایسے وقت میں دیکھی گئی جب اس کے سب سے بڑے خریدار چین میں طلب نسبتاً سست تھی اور چینی درآمد کنندگان معمول سے کم مقدار میں ایرانی تیل خرید رہے تھے۔ اس کے باوجود ایران نے پابندیوں میں ملنے والی مختصر مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تیل کی بڑی مقدار عالمی منڈیوں کی جانب روانہ کر دی۔
خلیج فارس سے تیل نکالنے کی دوڑ
کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق، 17 جون، یعنی ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے روز، خلیج فارس اور بحیرۂ عمان میں ایران کا تقریباً 68.7 ملین بیرل تیل موجود تھا، جبکہ تقریباً 51 ملین بیرل تیل اس خطے سے باہر ذخیرہ یا زیرِ نقل و حمل تھا۔
تاہم ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں صورتحال نمایاں طور پر بدل گئی۔ 14 جولائی تک خلیج فارس اور بحیرۂ عمان میں موجود ایرانی تیل کی مقدار گھٹ کر تقریباً 33 ملین بیرل رہ گئی، جبکہ خطے سے باہر موجود ایرانی تیل بڑھ کر تقریباً 105 ملین بیرل تک پہنچ گیا۔
PNP
Comments are closed.