by Rao Imran Suleman
Rao Nama

ہم بھی چین کی جاسوسی کرتے ہیں۔اردنی اڈے کی سیٹلائٹ تصاویر ایران کو فراہم کرنے کے سوال پر ٹرمپ کاجواب

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاہے کہ ہم بھی چین کی جاسوسی کرتے ہیں۔ انہوں نے  اس رپورٹ کو زیادہ اہمیت نہیں دی جس میں کہا گیا ہے کہ ایران نے جولائی میں اردن میں ایک اڈے کی سیٹلائٹ تصاویر چینی عناصر سے حاصل کی تھیں۔ اس اڈے پر ہونے والے ایک حملے میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ چینی صدر شی جین پنگ کے ساتھ متوقع ملاقات میں اس معاملے پر بات کریں گے، تو انہوں نے براہ راست جواب نہیں دیا بلکہ ایک دوسرے کی نگرانی کی سرگرمیوں کا موازنہ کیا۔

ٹرمپ نے صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بنیادی طور پر وہ بھی وہی کر رہے ہیں، جو ہم کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ جب وہ کہتے ہیں کہ چین ہماری جاسوسی کر رہا ہے، تو میں کہتا ہوں کہ آپ درست کہتے ہیں، ہم بھی ان کی جاسوسی کرتے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ چین کے صدر شی جین پنگ کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات ہیں۔آئرلینڈ میں ہفتے کے اختتام پر چھٹی گزارنے کے بعد امریکہ واپسی کے دوران طیارے میں ٹرمپ نے کہاکہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے کافی حد تک اچھا برتاؤ کیا ہے اور ہم بھی کافی حد تک اچھا برتاؤ کر رہے ہیں۔

چین اور امریکہ کے صدور کی 24 ستمبر کو امریکہ میں ملاقات متوقع ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکی حکام نے ان چینی عناصر کی شناخت ظاہر کرنے سے انکار کیا ،جنہوں نے ایران کو یہ تصاویر فراہم کی تھیں۔تاہم حکام نے بیجنگ کے براہ راست ملوث ہونے کا دعویٰ بھی نہیں کیا۔

PNP

Comments are closed.