نئی حج پالیسی منظور، آئندہ برس سرکاری حج کتنے میں ہو گا؟
اسلام آباد (پی این پی)وزارت مذہبی امور نے آئندہ چار سال کیلئے حج پالیسی کا اعلان کر دیا ہے،
حج 2027ء کیلئے درخواستوں کی وصولی 10سے 15دنوں میں شروع کی جائے گی، سرکاری سکیم کا کوٹہ 60فیصد جبکہ پرائیویٹ سکیم کا کوٹہ 40فیصد ہوگا ،وفاقی کابینہ کو میں ردوبدل کا اختیار ہوگا ۔بدھ کو وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے سیکریٹری مذہبی امور ابرار احمد مرزا کے ہمراہ پریس کانفرنس میں حج پالیسی کا اعلان کیا ۔ سردار محمد یوسف نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کی پہلی چار سالہ حج پالیسی 2027ء تا 2030ء قوم کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ یہ صرف ایک پالیسی نہیں بلکہ حج انتظامات میں ایک بنیادی اور دیرپا اصلاحات کا آغاز ہے، جس کا مقصد عازمین حج کو زیادہ سے زیادہ سہولت، شفافیت، اعتماد اور معیاری خدمات فراہم کرنا ہے۔یہ پالیسی وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دور اندیش قیادت، خصوصی رہنمائی اور ذاتی دلچسپی کا عملی مظہر ہے۔ وزیراعظم کی واضح ہدایات تھیں کہ حج کے پورے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے، ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کیا جائے، شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور ہر مرحلے پر عازمین کی سہولت کو اولین ترجیح دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس وژن کو ایک جامع، قابل عمل اور مستقبل پر مبنی پالیسی کی صورت میں قوم کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور نیشنل آئی ٹی بورڈ کی پوری ٹیم کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے وزارت مذہبی امور کے ساتھ قریبی تعاون کرتے ہوئے حج کے نظام کو جدید ڈیجیٹل بنیادوں پر استوار کرنے میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن سے لے کر مانیٹرنگ، شکایات کے ازالے اور بعد از حج جائزے تک ڈیجیٹل نظام کی تشکیل حکومت کے اس عزم کا مظہر ہے کہ عوام کو تیز، شفاف اور آسان خدمات فراہم کی جائیں۔ہمیں یقین ہے کہ یہ چار سالہ پالیسی نہ صرف آئندہ کئی برسوں کے لیے بہتر منصوبہ بندی کو ممکن بنائے گی بلکہ پاکستان کے حج انتظامات کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرتے ہوئے لاکھوں عازمین کے اعتماد کو مزید مضبوط کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پہلی بار چار سالہ حج رجسٹریشن اور ویٹنگ لسٹ کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، تاکہ عازمین اپنی سہولت کے مطابق پہلے سے حج کا سال منتخب کر سکیں۔رہائش، ٹرانسپورٹ، کیٹرنگ، فضائی سفر اور سامان کی ترسیل کے لیے تین سے چار سال کے معاہدے کیے جا سکیں گے، جس سے سہولیات کا معیار بہتر اور اخراجات کم ہوں گے۔حج کے تمام مراحل، رجسٹریشن سے لے کر شکایات کے ازالے اور بعد از حج جائزے تک، مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام کے تحت انجام دیے جائیں گے۔سال 2027 سے 2030 تک سرکاری اور نجی حج اسکیم کا کوٹہ بالترتیب 60 اور 40 فیصد برقرار رکھا جائے گا، جب تک وفاقی کابینہ اس میں کوئی تبدیلی نہ کرے۔حکومت بتدریج براہ راست حج انتظامات کرنے کے بجائے نگرانی، ریگولیشن اور معیار کو یقینی بنانے کا کردار ادا کرے گی، جبکہ نجی شعبے کی شمولیت میں اضافہ ہوگا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ عازمین حج رجسٹریشن کے وقت اندازا حج اخراجات کا 10 فیصد جمع کروا کر اپنی پسند کے سال کے لیے رجسٹر ہو سکیں گے۔حج کے لیے انتخاب مکمل طور پر شفاف ڈیجیٹل ویٹنگ لسٹ کے ذریعے “پہلے آئیں، پہلے پائیں کی بنیاد پر کیا جائے گا۔سرکاری حج سکیم کے تحت مختلف دورانیے کے متعدد حج پیکیج متعارف کرائے جائیں گے، تاکہ عازمین اپنی ضرورت اور سہولت کے مطابق انتخاب کر سکیں۔تمام خریداری اور معاہدے پاکستان اور سعودی عرب میں سرکاری خریداری کے قواعد کے مطابق شفاف طریقے سے کیے جائیں گے۔ حج آپریشن مکمل ہونے کے بعد اگر جمع شدہ حج واجبات میں سے کچھ رقم بچے گی تو وہ عازمین حج کو واپس کر دی جائے گی۔ سرکاری اور نجی دونوں حج انتظامات کا آزادانہ تھرڈ پارٹی کے ذریعے غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے گا تاکہ خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔نجی حج کمپنیوں کی رجسٹریشن اور نگرانی ، ان کی کارکردگی اور سہولیات کے مقررہ معیار پر عمل درآمد کی بنیاد پر ہوگی، صرف کوٹہ کی بنیاد پر نہیں۔ تمام نجی حج کمپنیوں کے لیے پرائیویٹ حج مینجمنٹ پورٹل کا استعمال لازمی ہوگا، جس کے ذریعے بکنگ، ادائیگیاں، نگرانی اور آڈٹ مکمل طور پر ڈیجیٹل انداز میں ہوگا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حج کی تمام ادائیگیاں صرف حکومت کے مقرر کردہ بینکاری ذرائع سے کی جائیں گی، جس سے شفافیت اور مالی تحفظ یقینی ہوگا۔عازمین کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے جدید ڈیجیٹل شکایت نظام، مثر نگرانی اور اپیل کا باقاعدہ نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔
معاونین حج کے انتخاب کے لیے کابینہ کمیٹی کی جانب سے مکمل طور پر میرٹ پر مبنی جامع معیار وضع کیا جائے گا تاکہ بہترین افراد کا انتخاب ممکن ہو۔ عازمین حج کی تربیت کو مزید مثر بنایا جائے گا، جس میں مناسک حج، موبائل ایپس، صحت، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور سعودی قوانین سے آگاہی شامل ہوگی۔حجاج محافظ اسکیم برقرار رکھی جائے گی، جس کے تحت دوران حج وفات، حادثے یا ہنگامی انخلا کی صورت میں مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ ہنگامی حالات سے مثر انداز میں نمٹنے کے لیے ایمرجنسی مینجمنٹ سسٹم اور ایمرجنسی رسپانس ٹیم قائم کی جائے گی۔نئی حج پالیسی کو سعودی ویژن 2030اور بین الاقوامی معیاری طریقہ کار سے ہم آہنگ بنایا گیا ہے، تاکہ شفافیت، ڈیجیٹل نظام، جوابدہی اور عازمین کو بہترین سہولیات فراہم کی جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ میں پورے یقین کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ حج پالیسی 2027ء تا 2030ء پاکستان میں حج انتظامات کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ یہ پالیسی شفافیت، میرٹ، ڈیجیٹل گورننس، جوابدہی اور عازمین کی فلاح کو بنیاد بنا کر تیار کی گئی ہے۔ ہمارا مقصد صرف انتظامات کرنا نہیں بلکہ ہر پاکستانی عازم حج کو ایسا بااعتماد، آسان اور باوقار سفر فراہم کرنا ہے جو اس عظیم عبادت کے شایان شان ہو،میں ایک مرتبہ پھر وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جن کی مسلسل رہنمائی، بھرپور سرپرستی اور خصوصی توجہ نے ان اہم اصلاحات کو عملی شکل دی۔
اسی طرح نیشنل آئی ٹی بورڈ اور سیکرٹری وزارت مذہبی امور اور ان کی تمام ٹیمیں مبارکباد کی مستحق ہیں جنہوں نے شب و روز محنت کر کے ایک جدید، شفاف اور مثر حج نظام کی بنیاد رکھی۔ایک سوال کے جواب میں وزیر مذہبی امور کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر حج اخراجات کا تخمینہ 12سے 13لاکھ لگایا گیا ہے اس میں رد و بدل بھی ہو سکتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں سیکرٹری مذہبی امور ابرار احمد مرزا نے کہا کہ پرائیویٹ ٹور اپریٹر کے حج کوٹے کی تعداد کم سے کم دو ہزار ہوگی اور زیادہ سے زیادہ تین ہزار ہوگی پرائیویٹ سکیم کا کوئی بھی حاجی براہ راست ٹور آپریٹر کو ادائیگی نہیں کر سکے گا بلکہ وہ ادائیگی بھی ان لائن پورٹل کے ذریعے کی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ آئندہ 10سے 15دنوں میں حج درخواستوں کی وصولی شروع ہوگی اور رقم دو اقساط میں وصول کی جائے گی۔وزارت مذہبی امور حاجیوں کیلئے سیونگ سکیم کا بھی جلد اعلان کرے گی۔ایک سوال کے جواب میں وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ ابھی تک پاکستان کا حج کوٹہ ایک لاکھ 79ہزار210 ہے۔آئندہ چار سالوں کیلئے رجسٹریشن کرانے والا کوئی بھی فرد اپنی مرضی کے مطابق 2027ء سے 2030ء تک کسی بھی سال کے لیے درخواست دینے کا اہل ہوگا۔
PNP
Comments are closed.