کراچی (پی این پی) ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس نے سرجانی ٹاؤن کے علاقے میں کار سے ایک جلی ہوئی لاش ملنے کے اندوہناک واقعے کا معمہ کامیابی سے حل کرتے ہوئے ایک تاجر اور اس کے ملازم کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس کے مطابق گرفتار تاجر کروڑوں روپے کا مقروض تھا جس نے قرض خواہوں سے جان چھڑانے کے لیے اپنی موت کا ڈرامہ رچایا اور ایک بے گناہ معذور محنت کش کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔چاول کے تاجر اور اس واقعے کے ماسٹر مائنڈ ذیشان ناز نے اعتراف کیا ہے کہ وہ قرضوں کے بوجھ تلے اس قدر دب چکا تھا کہ اس نے پہلے سمندر میں چھلانگ لگا کر خودکشی کا ارادہ کیا تھا، تاہم اس کے ملازم مصطفیٰ عرف ضیغم نے اسے روکا اور ایک خوفناک سازش کی بنیاد رکھی۔
ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی کے مطابق ملزمان نے 27 جولائی کی صبح نارتھ کراچی کے مزدور چوک سے ایک ہاتھ سے معذور غریب مزدور قربان حسین کو کام اور پیسوں کا لالچ دے کر اپنی گاڑی میں بٹھایا۔ملزموں نے سنسان مقام پر لے جا کر قربان حسین کو وہ زہریلی گولی کھلائی جو عام طور پر چاول کو کیڑا لگنے سے بچانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ گولی کھانے سے جب محنت کش کی طبعیت بگڑی تو ملزموں نے گاڑی کے اندر ہی اس کا گلا بھی دبا دیا۔مقتول قربان حسین کی موت کے بعد ملزموں نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے اس کے چہرے کی مونچھیں صاف کیں، کپڑے تبدیل کرائے اور تاجر ذیشان ناز کا موبائل فون، پرس اور دیگر ذاتی اشیاء لاش کے پاس رکھ دیں۔اس کے بعد ملزموں نے لاش اور گاڑی کو جلانے کی غرض سے پیٹرول چھڑکا اور گاڑی میں گیس سلنڈر بھی رکھ دیا تاکہ اس ہولناک قتل کو حادثے یا خودکشی کا رنگ دیا جا سکے۔ آگ لگاتے وقت اٹھنے والے شدید شعلے اور بگولے کی زد میں آ کر ماسٹر مائنڈ ذیشان ناز خود بھی جھلس گیا۔ اپنے ساتھی کے زخمی ہونے پر ملزم ضیغم موقع سے فرار ہو گیا۔
ابتدائی طور پر جلی ہوئی لاش کو تاجر ذیشان ناز ہی سمجھا جا رہا تھا، تاہم پولیس نے جدید ٹیکنالوجی، بائیو میٹرک تصدیق اور تکنیکی شواہد کی مدد سے انکشاف کیا کہ مقتول اصل میں 38 سالہ مزدور قربان حسین ہے، جو ایک ہاتھ سے معذور تھا۔واقعے کے بعد مرکزی ملزم ذیشان ناز نے آغا خان اسپتال کے احاطے میں روپوشی اختیار کی اور شناخت چھپانے کے لیے اپنے سر اور ڈاڑھی کے بال بھی مکمل طور پر منڈوا لیے۔ گذشتہ شب اسپتال کے سیکیورٹی اسٹاف نے ایک مشکوک شخص کو دیکھ کر پکڑا، جس نے بعد میں اپنی اہلیہ سے رابطہ کیا اور یوں پولیس اس کے سراغ تک پہنچ گئی۔
PNP
Comments are closed.