by Rao Imran Suleman
Rao Nama

ایم کیو ایم کا ملک میں نئے انتظامی یونٹس کیلیے عوامی ریفرنڈم کروانے کا مطالبہ

کراچی (پی این پی) متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے نئے انتظامی یونٹس کیلیے عوامی ریفرنڈم کروانے اور کُل جماعتی کانفرنس کے انعقاد کا مطالبہ کردیا جبکہ وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ صوبوں کی تقسیم کا تقاضہ پاکستان کا آئین کرتا ہے، صوبوں کی تقسیم کو غداری کہنے والا سب سے بڑا غدار ہے۔

نجی ٹی وی چینل ’’ ایکسپریس نیوز‘‘ کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے عارضی مرکز بہادرآباد میں رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اس سال ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ ماہ آزادی کو اسکی تمام جزئیات کے ساتھ منایا جائے۔ ایم کیو ایم پاکستان جشن آزادی کا جشن وارڈ لیول پر منائے گی اور 13 اگست کی شب آزادی کا مرکزی جشن شایان شان طریقے سے منایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں پاکستان کی تمام تاجر برادری کا اجتماع ہوا، جس میں ہمارے دیرینہ موقف کی تائید ہوئی کہ صوبے صرف انتظامی یونٹ ہیں۔ دھرتی ماں پاکستان ہے اور چاروں صوبے پاکستان کا حصہ ہیں۔ آپ جس صوبے میں بھی رہتے ہوں مگر دھرتی ماں پاکستان ہے اور ملک ہی واحد نہ تقسیم ہونے والا ہے۔

 خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان کے چار صوبے لسانی اکائیوں کو نمائندگی کرتے ہیں۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ صوبے انتظامی بنیادوں پر بننے چاہئیں اور جہاں جہاں ضرورت ہے۔ وہاں بنائے جانے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبوں کی شکل ون یونٹ کے بعد ختم ہوگئی تھی۔ ناقابل تقسیم کوئی چیز ہے تو وہ پاکستان ہے۔ صوبوں کی تقسیم پاکستان کا آئین کرتا ہے، پاکستان کے آئین میں طریقہ کار موجود ہے۔

 وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ ایم کیو ایم نے اسمبلی میں ترمیم کے لیے بل پیش کیا تھا جسے اب اسٹینڈنگ کمیٹی بھیجا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی جمہوریت جس کے ثمرات عام پاکستانی تک نہ پہنچے اسکی ضرورت نہیں۔ جس جمہوریت میں بنیادی جمہوریت نہ ہو وہ کیسی جمہوریت ہے۔

 خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ بنیادی حکومت ہوتی ہے تو عوام کے مسائل حل ہوتے ہیں۔ تیسری سطح کی بااختیار حکومتوں کے بغیر یہ جمہوریت کھوکھلی جمہوریت ہے، پاکستان کی سرحدوں کے نگہبان بھی اب اس حقیقت کا اظہار کر رہے ہیں۔

 ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کرپشن ملک کی معیشت و معاشرت کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ پاکستان کا علاج اب پینا ڈول کی گولی سے نہیں، جن لوگوں نے پاکستان کو منڈی بنایا ان کا احتساب ضروری ہے، صوبوں کی تقسیم کو غداری کہنے والا سب سے بڑا غدار ہے۔ اگر کوئی صوبے کی تقسیم کو غداری سمجھتا ہے تو اسکے ذہن میں کچھ اور چل رہا ہے مگر ہم پاکستان کو بچائیں گے۔

 انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس پر پیپلز پارٹی سے زیادہ ذمہ داری ریاست کی ہے، قیادت اب مڈل کلاس کی نکلے گی تو خاندانی سیاست کا خاتمہ ہوگا۔ حکومت اور ایوان کو ایم کیو ایم کی ضرورت ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دیں گے ہمارا ساتھ دیں۔

 ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آج کے حالات تقاضا کر رہے ہیں کہ قومی یکجہتی کو فروغ دیں۔ایم کیو ایم کے نمائندے مزار قائد پر حاضری دیکر ماہ آزادی کا آغاز کر چکے ہیں۔ ہم ایک یو سی میں جشن آزادی کے موقع پرچم کشائی کریں گے۔ تمام یونین کونسلوں اور ٹاونز میں پرچم کشائی کی تقریبات ہونگی۔ اس ماہ میں قومی مشاعرہ بھی منعقد کروائیں گے۔ آزادی کی ریلی بھی نکالی جائے گی۔ ایم کیو ایم کے تمام دفاتر پر پرچم کشائی کی جائے گی۔ ایک سوال کے جواب انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان میں کوئی اختلاف نہیں ہم سب ایک ہیں۔

 ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ کنونشن سینٹر اسلام آباد میں پورے ملک کے تاجر صنعت کاروں کا اجتماع منعقد ہوا، جس میں ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے سب کا جس نقطہ پر اتفاق ہوا وہ ہماری 45 سالہ جدوجہد کا حاصل ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کی جدوجہد رنگ لا رہی ہے، پاکستان میں سیاسی اور معاشی جمود کے خاتمے پر بات ہوئی، محسن نقوی نے جو بات کی یہ ہماری جدوجہد کی عکاس تھی۔ شہر میں مزید انتظامی یونٹس بنانے کی ضرورت ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان فیڈریشن آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی معاشی سمت کا خیر مقدم کرتی ہے جس میں جین زی کے لیے راستہ دینے جبکہ چند خاندانوں تک اقتدار کی بندر بانٹ کے خاتمے کی بات ہوئی۔ 

 فاروق ستار نے مطالبہ کیا کہ اختیارات و وسائل کی نچلی سطح تک منتقلی کے لئے آئین کے آرٹیکل 140 اے پر مکمل عملدرآمد کیا جائے۔ نئے انتظامی صوبوں کے معاملے پر آئین کے آرٹیکل 48 کلاز 6 کے تحت عوامی ریفرنڈم کروایا جائے۔ ایک قومی سطح کی کل جماعتی کانفرنس کی بھی تجویز ہے۔

 انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تباہی موروثی سیاست ہے، سیاسی جماعتوں کو پہل کرنا چاہیے۔ تمام سیاسی جماعتیں سر جوڑ کر بیٹھیں۔ یہ نظام بانجھ ہے اور اس نظام میں پاکستان کی ترقی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ تھے۔



PNP

Comments are closed.