by Rao Imran Suleman
Rao Nama

ایم کیوایم مرکز پر فائرنگ معاملہ، رحمان عرف بھولا کو حراست میں لے لیا گیا، پولیس ذرائع

فائل فوٹو 

ایم کیو ایم کے مرکز بہادرآباد میں جھگڑے اور فائرنگ  کے معاملے پر نارتھ ناظم آباد میں کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے رحمان عرف بھولا کو حراست میں لے لیا۔

 وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال بھی ایم کیو ایم مرکز بہادرآباد پہنچ گئے، صحافیوں سے گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ کل کے واقعہ پر کچھ نہیں کہنا چاہتا، کچھ بھی سیل نہیں ہورہا، سب کچھ ٹھیک کرلیں گے۔

اس کے علاوہ  ایم کیو ایم مرکز بہادرآباد پر جھگڑے کے بعد پارٹی کے عہدیدار اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے ، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائیاں کرکے ایم کیو ایم کے عہدیداران اور کارکنان کو حراست میں لیا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ رات متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستا ن کے مرکز بہادر آباد میں ایم کیو ایم کے دھڑوں کے مابین تصادم کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے، پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لینے کے بعد صورت حال پر قابو پایا تھا۔

نیو ٹاؤن تھانہ کی حدود میں واقع ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادرآباد میں ایم کیو ایم کے دو دھڑے آپس میں الجھ پڑے تھے، مرکز کے باہر بڑی تعداد میں جمع مشتعل کارکنان ایک دوسرے کو دھکے دیتے دکھائی دیے، اس دوران نامعلوم افراد کی جانب سے مبینہ طور پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 2 افراد گولیاں لگنے سے زخمی ہوگئے۔

ایس ایچ او تھانہ نیو ٹاؤن انسپکٹر گل حسن کا کہنا تھا کہ فوری طور پر نہ ہی واقعے کا کوئی مقدمہ درج ہوا ہے اور نہ ہی کسی کو حراست میں لیا گیا۔

دوسری طرف ایم کیو ایم پاکستان کے دونوں دھڑوں کے رہنمائوں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے متعدد کارکنان و ذمہ داران زخمی ہوئے ہیں۔

ایم کیوایم پاکستان میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال گروپ میں اختلافات شدت اختیار کر گئے۔ رات گئے ہونے والی خالد مقبول گروپ کی پریس کانفرنس ملتوی کردی گئی، جبکہ مصطفی کمال گروپ کے رہنماؤں سے موقف کیلئے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے فوری ردعمل دینے سے انکار کردیا۔



PNP

Comments are closed.