ہمیں کوریج سے روکا گیا 6 سے 8 لڑکے آئے اور مجھے مکے اور تھپڑ مارے،امتیازعلی سماکیمرہ مین
ہمارا آپسی معاملہ ہے ویڈیوز نہ بناؤ، مجھے آدھا گھنٹہ بٹھایا گیا اور زدو کوب کیا گیا
سماء کے کیمرہ مین امتیاز نے الزام عائد کیا ہے کہ فائرنگ کی کوریج کے دوران مبینہ طور پر ایم کیو ایم کے کارکنوں نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا، تھپڑ مارے اور ان کا کیمرہ چھین لیا۔
امتیاز کے مطابق وہ فائرنگ کے واقعات کی ویڈیوز بنا رہے تھے کہ چند افراد نے انہیں کوریج سے روک دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ 6 سے 8 افراد آئے، انہیں مکے اور تھپڑ مارے اور ایک کمرے میں بٹھا دیا۔
انہوں نے بتایا کہ مبینہ افراد نے کہا کہ “یہ ہمارا آپسی معاملہ ہے، ویڈیوز نہ بناؤ۔” امتیاز کے مطابق انہیں تقریباً آدھے گھنٹے تک روکے رکھا گیا، اس دوران انہیں زدوکوب کیا گیا اور ان کی تصویر بھی بنا کر مختلف گروپس میں شیئر کی گئی۔
کیمرہ مین نے مزید الزام لگایا کہ انہیں دھمکی دی گئی کہ اگر فائرنگ کی ویڈیو لیک کی گئی تو نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔
امتیاز کا کہنا ہے کہ خبر نشر ہونے کے بعد انہیں چھوڑ دیا گیا اور وہ اللہ کے شکر سے خیریت سے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی شکوہ کیا کہ واقعے کے دوران ایم کیو ایم قیادت میں سے کوئی بھی موقع پر نہیں پہنچا۔