by Rao Imran Suleman
Rao Nama

کراچی میں بی آر ٹی منصوبے کے لاٹ ٹو کا ٹھیکہ ختم کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار

فوٹو: فائل

کراچی میں بی آر ٹی منصوبے کے لاٹ ٹو کا ٹھیکہ ختم کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا گیا، ڈسپیوٹ بورڈ نے ٹھیکہ ختم کرنے کو غیرقانونی اور معاہدے کی شقوں کے منافی قرار دے دیا۔ 

اپنے اکثریتی فیصلے میں کہا کہ ڈیزائن میں بار بار تبدیلیوں اور انتظامی خامیوں کی وجہ سے منصوبے میں تاخیر ہوئی۔ تاخیر کی اصل ذمے دار پروجیکٹ منیجمنٹ ٹیم اور کنسلٹنٹس ہیں۔

حکومت سندھ نے 21 اپریل کو بی آر ٹی ریڈ لائن کے لاٹ ٹو کے ٹھیکیدار کو معاہدہ منسوخ کرنے کا نوٹس جاری کیا اور دفتر سیل کر کے کام بھی رکوا دیا گیا۔ معاملہ سندھ ہائی کورٹ پہنچا، جہاں عدالت نے فریقین کو معاہدے کے تحت قائم ڈسپیوٹ بورڈ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی۔

تین رکنی ڈسپیوٹ بورڈ میں دونوں فریقین کے سینئر پاکستانی انجینئرز شامل تھے جنہوں نے دو ایک کی اکثریت سے ٹھیکیدار کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ معاہدہ جلد بازی میں ختم کیا گیا جو نہ صرف معاہدے کی شقوں کے خلاف بلکہ غیر قانونی بھی ہے۔ 

فیصلے میں کہا گیا کہ صرف مقررہ مدت میں کام مکمل نہ ہونے کو بنیاد بنا کر ٹھیکہ ختم نہیں کیا جا سکتا۔ بورڈ نے نشاندہی کی کہ منصوبے کے ڈیزائن میں بار بار تبدیلیاں کی گئیں۔ 16 میں سے صرف ایک اسٹیشن کا نظرثانی شدہ ڈیزائن نومبر 2025 میں فراہم کیا گیا۔

جبکہ باقی 15 اسٹیشنوں کے ڈیزائن معاہدہ ختم ہونے تک بھی ٹھیکیدار کو نہیں مل سکے۔ انہی تبدیلیوں کے باعث منصوبہ تاخیر کا شکار رہا، تاہم کنسلٹنٹس کو اس پر جوابدہ نہیں ٹھہرایا گیا۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ منصوبے کی پروجیکٹ منیجمنٹ ٹیم، ٹرانس کراچی، اتنے بڑے منصوبے کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے مطلوبہ تجربہ اور صلاحیت نہیں رکھتی۔ 

ڈسپیوٹ بورڈ کے فیصلے کے خلاف فریقین 28 روز کے اندر اعتراض دائر کر سکتے ہیں، جبکہ اس کے 56 روز بعد، اگر باہمی اتفاق رائے سے تنازع حل نہ ہوا، تو معاملہ بین الاقوامی قوانین کے تحت آربیٹریشن میں چلا جائے گا۔ 



PNP

Comments are closed.